انوارالعلوم (جلد 5) — Page 515
انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۵ ملا تكلة الله کے پاس جاتا ہے ممکن ہے کہ اس کے اندر سل کے کیڑے داخل ہو کر اس کی ہلاکت کا باعث ہوں مگر جب وہ سورج کی تیز دھوپ میں سے گزرتا ہے تو وہ کیڑے خود بخود مر جاتے ہیں اور اس بات کا اسے پتہ بھی نہیں ہوتا اور اس طرح وہ بچ جاتا ہے۔پس ایک تو یہ سلسلہ ہے جو انسان کی محنت اور کوشش کے بغیر اس کے فائدہ کے لئے کام کر رہا ہے۔اور وہ دوسرا سلسلہ ہے جو انسان محنت اور کوشش کر کے کسی چیز سے فائدہ اٹھاتا اور اپنے لئے مفید بناتا ہے۔جیسے فلہ سے روٹی پکانا ، مٹی سے مکان بنانا ، لو ہے اور لکڑی سے گاڑی ، کھی، ریل کا تیار کرنا ، علم حاصل کرنا اب غور کا مقام ہے کہ کیا یہ مکن ہے کہ انسان کی جسمانی تربیت اور انتظام کے لئے تو یہ دو سلسلے ہوں لیکن اس کی روحانیت کے لئے خدا نے کچھ بھی نہ کیا ہو ؟ ادھر روحانی اور جسمانی سلسلوں کی مشابہت بتاتی ہے کہ جس طرح چاند، سورج اور ستاروں کے اثرات خود بخود انسان کے جسمانی انتظام پر پڑ رہے اور فائدہ پہنچا رہے ہیں اسی طرح روحانیت کے لئے بھی کوئی سلسلہ ہونا چاہئے جس سے انسان کی روحانیت کو فائدہ پہنچے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے ملائکہ رکھے ہیں جو انسان میں روحانیت پیدا کرتے اور اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ہاں جب بیماری بڑھ جاتی ہے تو جس طرح سورج کی دھوپ سل کے کیڑوں کو نہیں مار سکتی بلکہ دوائی دینے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جب روحانیت کی بیماری بڑھ جاتی ہے تو اس کے لئے بھی اور سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ملائکہ کے ہونے کی ضروریات ہیں۔ملائکہ کے وجود پر اعتراض اور ان کے جواب اب میں ان اعتراضات کے جواب دیتا ہوں جو ملائکہ کے متعلق کئے جاتے ہیں :- پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ملائکہ ہیں تو ہمیں نظر کیوں نہیں آتے ؟ یہ ایسا اعتراض ہے جس کو سن کر ہنسی آتی ہے کیونکہ سینکڑوں چیزیں دنیا کی ایسی ہیں کہ جو نظر نہیں آئیں لیکن لوگ ان کو مانتے ہیں۔میں کہتا ہوں کیا مٹھاس کسی کو نظر آتی ہے ؟ اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ زبان سے تعلق رکھنے والی چیز ہے نظر نہیں آیا کرتی۔میں کہتا ہوں کیا آوازہ کسی کو نظر آتی ہے ؟ کہا جائیگا اس کا تعلق کان سے ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ سختی یا نرمی کسی کو نظر آتی ہے ؟ یہی کہا جائے گا کہ یہ چھونے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پھر میں کہتا ہوں خوشبو یا بد بوکسی کو نظر آتی ہے ؟ یہی کہا جائیگا