انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 115

انوار العلوم جلد ۵ علیه و 11A اس کے بدن پر نشان پڑ گئے حضرت مرزا صاحب کی زندگی کا یہ نہایت ہی چھوٹا اور معمولی واقعہ ہے لیکن اس کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی کسقدر عزت ہے۔اکثر لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو مخالفین کے لیکچروں میں جاتے اور رسول کریم صلی اللہ ے متعلق خوشی سے گالیاں سنتے ہیں۔بعض جوش میں آکر آگے سے گالیاں دینا شروع دیتے ہیں۔مگر یہ بھی درست نہیں اور اکثر بیٹھے سُنتے رہتے ہیں۔لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بُرا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا۔لیکن جلسہ میں سخت گالیاں دی گئیں ہماری جماعت کے کچھ لوگ بھی وہاں گئے تھے جن میں مولوی نورالدین صاحب بھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتا تھے جب آپ نے سنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو مولوی صاحب کو کہا۔وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کسی طرح گوارا کیا کیوں نہ آپ اُٹھ کر چلے آئے۔اس وقت آپ ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہونا تھے کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہو جائیں گے۔مولوی صاحب نے کہا حضور غلطی ہو گئی۔آپ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں میٹھے رہیں۔غرض ایسے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور توقیر کے لئے وقف تھی۔حضرت مرزا صاحب کے نمونہ کا اثر پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ آپ کے نو نہ کہ آپ کی اولاد آپ کے متبعین اور آپ کے مریدوں پر کیا اثر ہوا۔اس وقت وہ خواہ کتنے ہی کمزور ہوں لیکن اسلام کے لئے غیرت اپنی لوگوں میں نظر آئے گی جو حضرت مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں۔کیونکہ اس وقت اسلام پر حملہ کرنے والوں کا جواب اگر کوئی جماعت دے رہی ہے تو وہ وہی ہے جو حضرت مرزا صاحب نے قائم کی ہے۔اس۔ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب رات دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے میں لگے رہتے تھے۔ایسے انسان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا۔