انوارالعلوم (جلد 5) — Page 114
انوار العلوم جلد ۵ تقریر سیالکوٹ سے اسلام کے متعلق حضرت مرزا صاحب کی خط و کتابت ہوتی رہی۔چونکہ ان کی طبیعت میں سختی تھی اس لئے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت اور ناشائستہ الفاظ استعمال کئے جیسا کہ ان کی کتاب " کلیات آریہ مسافر سے ظاہر ہے - حضرت مرزا صاحب کو جو دلائل کا جواب لائل سے دینے میں کبھی نہ تھکنے والے تھے ایسے الفاظ سُن کر بہت تکلیف ہوئی۔ایک دفعہ جب لاہور گئے تو پنڈت لیکھرام ملنے کے لئے آئے اور سامنے آکر سلام کیا۔آپ نے ادھر سے منہ پھیر لیا۔پھر وہ دوسری طرف آئے لیکن آپ نے توجہ نہ کی۔اس پر سمجھا گیا کہ شائد آپ کو معلوم نہیں یہ کون ہے اور بتایا گیا کہ یہ پنڈت لیکھرام نہیں اور آپ کو سلام کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا اسے شرم نہیں آتی میرے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔پنڈت دیکھرام کی جو عزت آریوں میں تھی اس کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ ان سے ملنا اپنی عزت سمجھتے تھے۔لیکن حضرت مرزا صاحب کی غیرت دیکھئے۔پنڈت صاحب خود ملنے کے لئے آتے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں پہلے میرے آقا کو گالیاں دینا چھوٹ دے تب میں ملوں گا۔اسی طرح ایک اور واقعہ ہے۔حضرت مرزا صاحب کا سلوک اپنی اولاد سے ایسا اعلیٰ درجہ کا تھا کہ قطعاً خیال نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ کبھی ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو یہمجھا کرتے تھے کہ حضرت صاحب کبھی غصے ہوتے ہی نہیں۔میرے بچپن کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے مولوی عبدالکریم صاحب جو اسی جگہ کے ایک عالم تھے اور جنہیں پرانے لوگ جانتے ہوں گے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا میری پہلی میں درد ہے۔جہاں ٹکور کی گئی لیکن آرام نہ ہوا۔آخر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی جیب میں اینٹ کا ایک روڑا پڑا تھا جس کی وجہ سے پسلی میں درد ہوگیا۔پوچھا گیا کہ حضور یہ کس طرح آپ کی جیب میں پڑ گیا۔فرمایا محمود نے مجھے یہ انٹ کا ٹکڑا دیا تھا کہ سنبھال کر رکھنا میں نے جیب میں ڈال لیا کہ جب مانگے گا نکال دوں گا۔مولوی صاحب نے کہا حضور مجھے دے دیجئے میں رکھ چھوڑوں۔فرمایا نہیں میں اپنے پاس ہی رکھوں گا۔تو آپ کو اولاد سے ایسی محبت تھی۔آپ ہم سب سے ہی بہت پیار اور محبت کرتے تھے لیکن خاص کر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی سے آپ کو ایسی محبت تھی کہ ہم سمجھتے تھے سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں۔ایک دن میں جب باہر سے آیا تو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے جسم پر ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچپن کی ناسمجھی سے اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف تھی۔اس پر حضرت صاحب نے اس زور سے اسے مارا کہ