انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 578

انوار العلوم جلد ۵ ۵۷۸ ہدایات زرین سے ہی ہم قا بو آتے ہیں اس کو کٹا دینا چاہئے تاکہ ہم پکڑے نہ جائیں ٹینکر سب کٹانے کے لئے تیار ہو گئے کہ ایک بوڑھے لومڑ نے کہا ذرا تم خود تو دکھاؤ کہ تمہاری دم ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو ہم سب کٹانے کے لئے چلیں اور اگر تمہاری پہلے ہی کئی ہوئی ہے تو معلوم ہوا کہ تم ہماری بھی کٹوانی چاہتے ہو ۔ باقی یونہی باتیں ہی ہیں۔ تو عقلی دلائل کا اس وقت تک اثر نہیں ہوتا جب تک کہ خود دلیل دینے والے میں اس دلیل کا ثبوت نہ پایا جاتا ہو ۔ ایسی صورت میں لوگ یہی کہیں گے کہ بیشک دلیل تو معقول ہے مگر یہ بتاؤ اس کا نتیجہ کیا نکلا اور تم نے اس سے کیا فاء لا اور تم نے اس سے کیا فائدہ اُٹھایا ؟ اگر نتیجہ کچھ نہیں اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر کیوں ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے مذہب کو قبول کریں اور خواہ مخواہ نقصان اُٹھائیں۔ اسی طرح جذبات کو ابھارتے وقت اگر صرف الفاظ استعمال کئے جاویں اور ان کے ساتھ روح نہ ہو تو وہ الفاظ بھی اثر نہیں کرتے یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت لوگ جو بڑے زور شور سے تقریریں کر نیوالے ہوتے ہیں ان کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ مگر جن مقرروں کے اپنے جذبات ابھرے ہوئے ہیں خواہ کی پیچی وجہ سے یا جھوٹی وجہ سے ہی ان کے الفاظ اثر کرتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ مجھے دکھ پہنچا ہوا ہے حالانکہ در اصل ایسا نہ ہو تو بھی اس کا اثر اس کی آواز میں پایا جائے گا اور پھر سننے والوں پر ہوگا۔ اس کے بالمقابل اگر کسی کوئی الواقعہ کوئی تکلیف پہنچی ہو لیکن اس کا قلب اسے محسوس نہ کرتا ہو تو کوئی اس کی باتوں سے متاثر نہ ہوگا۔ پس دوسروں کے جذبات ابھارنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جب انسان بول رہا ہو تو اس کے اپنے جذبات بھی اُبھرے ہوئے ہوں مثلاً جب کوئی مبلغ مسلمانوں میں تقریر کر رہا ہو اور کہ رہا ہو کہ پر کو و رسول کریم اللہ علیہ وسلم کی فضیلت نہ دینی چاہئے ۔ ان کی عزت ، ان کا رتبہ ان کا درجہ سب انبیائ سے اعلیٰ ہے تو اس کے ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کی محبت اس کے دل میں بھی موجزن ہونی چاہئے اور اس کے دل سے بھی جذبات کی لہر اٹھنی چاہئے تب دوسروں پر اثر ہو گا۔ مسمریزم کیا ہے ؟ یہی کہ جذبات کو ابھارنا اور شعور کا دل سے کام لینا۔ اس کی بڑی شرط یہی ہے کہ جس شخص کو سلانا ہو اس کے سامنے کھڑے ہو کر انسان یہ یقین کرے اور اس حالت کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائے کہ وہ سو گیا ہے جب یہ کیفیت کسی انسان میں پیدا ہو جاتی ہے تو دوسرا آدمی فوراً سو جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے قلب میں جو کیفیت بھی پیدا کر لی جائے اس کا اثر دوسروں پر ضرور ہو جاتا ہے ۔