انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 579

انوار العلوم جلد 069 ہدایات دریں غرض تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ دونوں باتیں نہایت ضروری ہیں کہ وہ عقلی دلائل کا ظاہری نمونہ بھی ہوں اور پھر جذبات بھی ان میں موجود ہوں۔یوں تو ہر وقت ہی ہوں مگر تقریر کرتے وقت خاص طور پر ابھرے ہوئے ہوں۔یہ جو باتیں میں نے بتائی ہیںیہ تو اصولی ہیں۔اب میں کچھ فروعی باتیں بتا تا ہوں جو ہر ایک مبلغ کو یاد رکھنی چاہئیں۔سب سے پہلے یہ ضروری بات ہے کہ مبلغ بے غرض ہو اور سننے والوں کو پہلی ہدایت معلوم ہو کہ اس کی ہم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ورنہ اگر مبلغ کی کوئی ذاتی غرض ان لوگوں سے ہوگی تو وہ خواہ نماز پر ہی تقریر کر رہا ہوگا سننے والوں کو یہی آواز آرہی ہوگی کہ مجھے فلاں چیز دے دو۔فلاں دے دو۔مسلمانوں کے واعظوں میں یہ بہت ہی بُری عادت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے وعظ کے بعد کوئی غرض پیش کر کے امداد مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔اس سے سننے والوں کے ذہن میں یہ بات داخل ہوگئی ہے کہ وعظ کرنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے اور اسے ایک فرض سمجھا جاتا ہے۔یہ ایسی بُری رسم پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی واعظ وعظ کر رہا ہو تو سننے والے حساب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ہم اس میں سے کسقدر مولوی صاحب کو دے سکتے ہیں اور کتنا گھر کے خرچ کے لئے رکھ سکتے ہیں۔اس رسم کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مولوی وعظ کے بعد مانگتے ہیں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیا جائے۔اس کا بہت بڑا اثر ہو رہا ہے۔کیونکہ واعظہ کی باتوں کو توجہ اور غور سے نہیں سنا جاتا۔پس واعظ کو بالکل متنی المزاج اور بے غرض ہونا چاہئے۔اگر کسی وقت شامت اعمال سے کوئی ملمع یا لالچ پیدا بھی ہو تو وعظ کرنا بالکل چھوڑ دینا چاہئے اور توبہ و استغفار کرنا چاہئے اور جب وہ حالت دور ہو جائے پھر بے غرض ہو کر کھڑا ہونا چاہئے۔اور وعظ کے ساتھ اپنے اندر اور باہر سے لوگوں پر ثابت کر دینا چاہئے کہ وہ ان سے کوئی ذاتی فائدہ اور نفع کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ چاہتا ہے۔جب کوئی مبلغ اپنے آپ کو ایسا ثابت کر دیگا تو اس کے وعظ کا اثر ہوگا ورنہ وعظ بالکل بے اتر جائے گا۔اسی طرح دوسرے وقت میں بھی سوال کرنے سے واعظ کو بالکل بچنا چاہئے۔سوال کرنا تو یوں بھی منع ہے اور کسی مومن کے لئے پسندیدہ بات نہیں ہے۔لیکن اگر واعظ سوال کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وعظ اسی وجہ سے ہی کرتا ہے ہیں یہ نہایت ہی ناپسندیدہ بات ہے اور واعظوں کو خاص طور پر اس سے بچنا