انوارالعلوم (جلد 5) — Page 517
انوار العلوم جلد ۵ 014 علی نکته الله مثلاً ایک شخص کسی سے ناراض ہے اور اس سے بولنا نہیں لیکن ایک اور شخص کو اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ فلاں شخص یہاں نہ آئے۔تو کیا وہ کہے گا کہ یہ گونگا ہے ؟ بول ہی نہیں سکتا کہ مجھ سے نہیں بولا۔نہیں۔یہ اعتراض غلط ہو گا۔کیونکہ وہ دوسروں سے بولتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں خدا نے ملائکہ کو ملا اسباب کے پیدا کر لیا کہ نہیں۔اگر ان کو پیدا کر لیا تو معلوم ہوا کہ بلا اسباب کے بھی خدا کام تو کر سکتا ہے لیکن ملائکہ کو اس نے کسی حکمت کے ماتحت اسباب مقرر کیا ہے۔پس ملائکہ کی پیدائش جب ایسی ہے کہ خدا نے بلا اسباب کے کی ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا مقرر کرناکسی حکمت کے ماتحت ہے نہ کہ خدا ان کا محتاج ہے اور ان کے بغیر وہ کچھ کر نہیں سکتا۔چو تھا جو اب اس کا یہ ہے کہ تم ملائکہ کے مقرر کرنے کو احتیاج کہتے ہو ہم اسے حکمت کہتے ہیں اور ملائکہ کے مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ علوم کی وسعت ان کے مخفی اسباب اور پھر ان کی کثرت کی کی وجہ سے ہوتی ہے۔مثلاً کونین میں جو صفات تھیں وہ اگر مخفی نہ ہو ئیں تو اس کے متعلق جو علم نے ترقی کی ہے وہ نہ ہوتی ہیں علوم کی وسعت کے لئے مخفی سامانوں کا ہونا ضروری ہے جب تک اسباب مخفی نہ ہوں وسعت نہیں ہو سکتی کیونکہ جو بات ظاہر ہو اس میں وسعت کہاں پیدا کی جاسکتی ہے ؟ پس علوم کی وسعت کے لئے خدا تعالیٰ نے مخفی سامان رکھتے ہیں۔اور جوں جوں ان کو دریافت کیا جاتا ہے علوم میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے اور جس قدر کوئی ان کے دریافت کرنے میں زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے اسی قدر زیادہ فائدہ اور ناموری حاصل کرتا ہے۔اگر یونی تپ اتر جایا کرتا تو وہ ڈاکٹر جس نے اس کے اسباب پر غور و فکر کرتے کرتے اس کا علاج کو تین دریافت کیا اس میں اور دوسرے لوگوں میں کیا فرق ہوتا اور اس علم میں جو ترقی ہو رہی ہے وہ کسی طرح ہوتی ؟ پس دنیا میں ترقی اور درجہ حاصل کرنے کا مخفی اسباب بہت بڑا ذریعہ ہیں۔اگر یہ نہ ہوتے تو نہ کوئی ترقی کر سکتا اور نہ اعلیٰ درجہ حاصل کر سکتا۔یسی حالت روحانیت کی ہے۔انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ روحانی ترقی حاصل کرے اس کے لئے روحانی اسباب بھی مخفی رکھے گئے ہیں جو ان سے کام لیتا ہے وہ انعام اور درجہ حاصل کرتا ہے۔پس ترقیات کے لئے اخفاء کی بہت سخت ضرورت ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ اگر مخفی اسباب مانے جائیں تو خدا کو ان کا محتاج قرار دینا پڑے گا۔مخفی اسباب کا ہونا خدا تعالیٰ کی احتیاج نہیں ثابت کرتا بلکہ بندہ کی احتیاج ثابت کرتا ہے کہ بندہ ان کے ذریعہ ترقی کرے۔خدا نے اگر یہ قانون مقرر کیا ہے کہ زمین کو ایک خاص حد تک کھودا جائے تو اچھا پھل پیدا ہوگا یہ اس