انوارالعلوم (جلد 5) — Page 518
انوار العلوم جلد هو DIA ملا نكتة الله لئے نہیں کہ خدا اس کا محتاج ہے بلکہ اس لئے کہ زمینداروں میں سے جو بڑا زمیندار بنا چاہتا اور اچھی کھیتی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کو اس کی احتیاج ہے اگر زمین کا عمدہ پھل لانا کسی محنت یا علم پر نہ رکھا جاتا تو کسی زمیندار کو دوسرے پر فضیلت نہ ہوتی اور مقابلہ کی جو روح اس وقت کام کر رہی ہے بالکل مفقود ہو جاتی۔دوسرے یہ بھی بات ہے کہ اگر مخفی اسباب نہ ہوتے تو خدا کا جلال لوگوں پر ظاہر نہ ہوتا اور اس کی قدرت کی قدر وہ نہ کرتے۔اگر سب باتیں پہلے سے ہی معلوم ہو تیں تو خدا کا جلال کس طرح بندوں پر ظاہر ہوتا ؟ یہ اسی طرح ظاہر ہوتا کہ انسان کسی بات کے متعلق جتنی تلاش اور جستجو کرتا ہے اتنا ہی اس کے متعلق نئی نئی باتیں دریافت کرتا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی قدرت کا اسے اعتراف کرنا پڑتا ہے۔پس مخفی اسباب کا پیدا کرنا خدا کی احتیاج کو ظاہر نہیں کرتا۔بلکہ یہ بندہ کی اصلاح اور فائدہ کے لئے ہے۔اور یہ مخفی اسباب جن کے دریافت کرنے سے درجہ اور ترقی اور عزت حاصل ہو سکتی ہے ان کی آخری کڑی ملائکہ ہیں۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم پر یہ اسباب اس وسعت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ آپ کو جو ترقی اور درجہ حاصل ہوا۔وہ اور کسی کو حاصل نہ ہو سکا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود پر اسباب ظاہر ہوئے اور آپ کو بھی اعلیٰ عزت اور رتبہ نصیب ہوگیا۔پھر ان کے ذریعہ مجھے پر بھی یہ اسباب ظاہر ہوئے اور مجھے بھی خدا تعالیٰ نے عزت اور رتبہ عطا کیا۔تو یہ مدارج کا تفاوت بھی نہ ہوتا اور سب ایک ہی جیسے ہوتے لیکن مخفی اسباب کی وجہ سے جتنے جتنے اسباب کسی پر ظاہر ہوئے انہی کے مطابق اس کو درجہ بھی ملا۔اس امر میں کیا شبہ ہے کہ بالعموم مسبب ظاہر ہوتا ہے اور سبب مخفی۔اور مخفی کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو محنت برداشت کرنی پڑتی ہے جو اس کے لئے موجب ثواب اور زیادت علم ہوتی ہے اور اس کی دلچسپی کو بڑھاتی ہے۔یہ ایک طبعی خاصہ ہے کہ مخفی شے انسان کی وقتیپی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔دوائیوں کی تاثیرات اور ایجادات اس قبیل میں سے ہیں۔اور ان اسباب کا دریافت کرنا ہی مدارج انسانی قائم کرتا ہے۔یہیں روحانی اسباب مخفیہ بھی ضروری تھے تا انسان کے علم باطن میں بھی زیادتی ہو اور کوشش اور سعی میں بھی تفاوت ہو۔اور روحانی آدمی ایک دوسرے کے مقابلہ میں فضیلت حاصل کریں اور مسابقت کا موقعہ ملے اور مخفی در مخفی علوم کی واقفیت حاصل کرکے اس کے یقین میں ترقی اور حوصلہ میں زیادتی ہو اور خدا تعالیٰ کی غیر محدود طاقتیں اس کے سامنے ظاہر ہوں۔بھلا یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالٰی اس سلسلہ کو جو اس کا وجود مخفی کرتا تھا اسعد