انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 498

هد انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۸ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مختلف فرشتے مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور کوئی تھوڑی صفات کے اور کوئی زیادہ صفات کے۔اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس زمانہ کے لئے جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی استعداد کے فرشتے بھیجے جاتے ہیں اپنی فرشتوں کو لوگوں کے پاس بھیجا جاتا رہا جن میں ان لوگوں کے مطابق استعداد ہوتی تھی۔اور جب دنیا پورے درجہ تک پہنچ گئی تو اس وقت خدا تعالیٰ نے جبرائیل کو اپنی کامل صورت میں بھیجا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے چھ سو پر ہیں جو کامل کتاب لے کر آیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جبرائیل خدا کی چھ سو صفات کے مظہر ہیں۔یہ کہنا غلطی ہے کہ خدا کی صفات تو تھوڑی ہیں پھر یہ چھ سو صفات کے کیونکر مظہر ہوئے ؟ خدا تعالیٰ کی بے شمار صفات ہیں اور چھ سو تو صرف وہ ہیں جو انسان کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ایک نہایت لطیف بات لکھی ہے جو یہ ہے کہ قرآن کریم کا علم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل سے زیادہ تھا۔اور یہ بالکل درست بات ہے وجہ یہ کہ اور ملائکہ بھی آپ کی تائید میں تھے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفات کے فرشتے تھے۔تو معلوم ہوا کہ ملائکہ مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں۔اور اجنحہ کے معنے پر نہیں بلکہ صفات کے ہیں جو ان میں پائی جاتی ہیں۔یہ تو وہ باتیں ہیں جن سے ملائکہ کے متعلق اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کیسی مخلوق ہیں۔اس بیان سے بعض کو ملک کے لفظ کے ساتھ اس کی کچھ کچھ صفات کا پتہ بھی لگ گیا ہو گا۔اب میں ان کے کام بتا تا ہوں۔ہے:۔لانکہ کے کام ملائکہ کا ایک کام جو بہت بڑا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کلام الٹی لاتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ه ا لج : ٤٧ ) للہ تعالی لائنکہ اور انسانوں سے رسولوں کو چنتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کا ایک کام خدا کا کلام پہنچانا ہے۔دوسرا کام ملائکہ کا جان نکالنا ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- بخارى كتاب التفسير - سورة النجم باب قوله فاوحی الى عبده ما اوحی