انوارالعلوم (جلد 5) — Page 497
انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۷ علا تشكر الله پیش کرتے ہیں تو آسمان سے آواز آتی ہے کہ اسے واپس لے جاؤ اور جاکراس کے منہ پر مارو بینداز اس نے میرے لئے نہیں پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کو غیب کا علم ہیں ہوتا اگر ہوتا تو وہ ایسی نماز کو ے ہی کیوں جاتے ہو قابل قبول نہ تھی ؟ تیر ہو یہ باتے یہ معلوم ہوتی ہے کہ الگ الگ چیزوں کے الگ الگ فرشتے ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کو اُحد کے دن سے زیادہ بھی کبھی تکلیف پہنچی ہے۔آپؐ نے فرمایا۔ہاں۔یوم عقبہ کو جب کہ مکہ والوں کے انکار کو دیکھ کر میں نے عبد پائیل کی قوم کی طرف توجہ کی۔مگر انہوں نے توجہ نہ کی اور میری بات کو رو کر دیا اس پر میں سخت غمگین ہو کر بلا کسی خاص جہت کو مد نظر رکھنے کے یونی ایک طرف کو نکل کھڑا ہوا۔راستہ میں میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا جس میں جبرائیل مجھے نظر آئے اور انہوں نے کما کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی بات کو سن کر اور ان کی مخالفت کو دیکھ کر پہاڑ کے فرشتہ کوحکم دیا ہے کہ جو تو اسے حکم کرے وہ کرے۔اس پر پہاڑ کے فرشتہ نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اخشین کو رمکہ کے گرد کے دو پہاڑ ) ان پر برابر کر دوں یعنی ان میں زلزلہ پیدا ہوکر وہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔میں نے کہا کہ نہیں۔نہیں امید کرتا ہوں۔کہ ان کی اولاد نیک پیدا ہو جائے جو ایک خدا کی پرستش کرنے لگے۔(البداية والنهاية جلد ۳ را تا كا مطبوع بيروت ١٩٢٧ء ) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا کہ خدا نے پہاڑ کے فرشتے کو حکم دیا ہے کہ آپ کی مدد کرے اپنے متعلق نہیں کہا۔کہ میں مدد کے لئے آیا ہوں اس سے ظاہر ہے کہ پہاڑ کا فرشتہ الگ تھا اور الگ الگ چیزوں کے علیحدہ علیحدہ فرشتے مقرر ہوتے ہیں۔چودھویں باتے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ مختلف صفات الہیہ کے مظہر ہوتے ہیں۔بعض کسی ایک طاقت کے اور بعض ایک سے زیادہ طاقتوں کے مظہر ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ جَاهِلِ المَلَئِكَةِ رُسُلًا أُولَى أَجْنِحَةٍ مَثْنى وثلث وَرُبَعَ ، يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلَّ شَيْيٌّ قَدِيرُه (فاطر : ۲) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور جو فرشتوں کو رسول بناکر بھیجتا ہے۔جن میں سے بعض دو بعض تین اور بعض چار صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور اللہ ان میں زیادتی بھی کرتا ہے جتنی چاہتا ہے۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔لا اس کا پورا نام عبدیالیل بن عمرو بن عمیر ہے یہ طائف کے رؤسا میں سے ایک تھا۔قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق تھا۔(سیرت ابن هشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء)