انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 448

انوار العلوم جلد ۵ ۸م نام اصلاح نفس یا مسیح موعود کے خلاف کوئی بات سنو تو تمہارے سرسے لے کر پاؤں تک ایک شعلہ نکل جائے۔اور تم جواب دینے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔تمہارا تعلق ایسا ہونا چاہئے کہ جس وقت کوئی شخص خدا تعالیٰ یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مسیح موعود یا وہ لوگ جو تمہارے لئے واجب الادب میں ان کے خلاف کوئی بات سنو تو اس وقت تمہارے جسم میں غیرت اور نفرت کی ہر چلنی چاہئے اور تمہارا جسم کانپ اٹھنا چاہئے۔پھر جب تم اس لہر اور جوش کو دباؤ گے اور روکے رکھو گے تو تمہیں بہت بڑا فائدہ ہوگا اور تم بڑے بڑے کام کر سکو گے۔یہ نہیں کہ ایسے وقت میں تمہارے اندر غیرت اور حمیت کی لہر ہی پیدا نہ ہو۔اگر ایسا ہو گا تو یہ بے غیرتی ہوگی جو ذلیل ترین چیز ہے۔قادیان آؤ پانچویں بات جو ان چاروں باتوں میں محمد ہوگی وہ قادیان کی آمد ہے۔اس کے لئے میں نے بار بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں۔کیونکہ یہاں کی آمد میں بے شمار فوائد ہیں اور یہ بہت بڑی نعمت ہے اگر کوئی اس پر غور کرے کیونکہ یہ ان باتوں کے لئے محمد ہے جو میں نے بیان کی ہیں۔قادیان آنے کا ایک فائدہ ایک تو اس طرح کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اسلام کی ترقی کا مرکز بنا دیا ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ جو چیز مرکز سے جس قدر قریب ہوگی وہ اس سے جو دُور ہو گی اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوگی۔وہی ٹکڑی کمزور ہوگی اور وہی کئیگی جو مرکز سے دُور ہو گی اور جس کا مرکز سے کم تعلق ہو گا اسی طرح مرکز سے تعلق رکھنے والا انسان ہلاکت سے بچا رہتا ہے۔دیکھو وہ بچہ جو ماں کی گود میں ہے اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو کیل رہا ہے۔پھر وہ بچہ جوگھر مں کھیل رہا ہے اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو گلی میں کھیل رہا ہے اور جو گلی میں کھیل رہا ہے وہ اس کی نسبت ہلاکت سے زیادہ بچا ہوا ہے جو گاؤں کے کسی دوسرے حصہ میں کھیل رہا ہے اور جو گاؤں کے کسی دوسرے حصہ میں کھیل رہا ہے وہ اس کی نسبت زیادہ ہلاکت سے بچا ہوا ہے جو گاؤں سے باہر کھیل رہا ہے۔خداتعالی نے قادیان کو مرکز قرار دیا ہے اور اسے اُتم کیا ہے ہیں اس سے جتنا جتنا زیادہ کوئی تعلق رکھے گا اتنا ہی زیادہ خطرات سے بچا رہے گا۔میں نے اس طرف اپنی جماعت کے لوگوں کو بہت دفعہ توجہ دلائی ہے اور توجہ ہوئی بھی ہے مگر غرباء میں سے تو ایسے لوگ ہیں جو چار پانچ چھ دفعہ سال میں یہاں آئیں گے لیکن امراء نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم بڑے ہو گئے ہیں ہمیں جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ مگر یاد رکھو بچہ کبھی ماں سے بڑا نہیں ہو سکتا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو جائے۔اگر وہ اپنی ماں کے مقابلہ میں کہتا ہے کہ میں بڑا