انوارالعلوم (جلد 5) — Page 449
و نوار العلوم جلد ۵ ۴۴۹ اصلاح نفس ہو گیا ہوں تو جاہل ہے نادان ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ باہر گیا ہوا دودھ بھی فائدہ دے سکتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا تازہ دودھ۔یہی وجہ ہے کہ نازک اور چھوٹے بچے کے لئے ماں کی چھاتی کا دو دھر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔بڑے انسان کو گائے بھینس کا دودھ بھی فائدہ دے سکتا ہے مگر چھوٹے بچے کے لئے ماں کا ہی دودھ فائدہ بخش ہو سکتا ہے۔تمہاری حالت ابھی چھوٹے بچے کی سی ہے اس لئے تمہیں اس جگہ اگر جسے خدا تعالیٰ نے اُم قرار دیا ہے روحانیت کا تازہ بتازہ دودھ پینا چاہئے۔دوسرا فائدہ یہاں آنے میں یہ ہوگا کہ ایک تو تم ان کاموں میں جو بیاں ہو رہے دوسرا فائدہ ہیں مدد دے کر ثواب حاصل کرو گے۔دوسرے اور وں کو دیکھ کر روحانی باتوں کے حاصل کرنے کی تحریک ہو گی۔یہاں تاجر بھی رہتے ہیں مگر نمازوں اور درس کے وقت دوکا نہیں بند کرکے چلے جاتے ہیں اور سودے والے شکایت کرتے ہیں۔تو یہاں دوسروں کو دیکھ کر بھی نیک اور دینی باتوں میں حصہ لینے کی تحریک ہوتی ہے۔تیسرا فائدہ یہ ہے تعلقات مابین میں زیادتی ہوتی ہے۔ایک بھائی کو تیسرا فائده دوسرے بھائی سے واقفیت پیدا ہوتی ہے۔جلسہ کے دنوں میں یہ بات پورے طور پر حاصل نہیں ہو سکتی۔دوسرے دنوں میں جب لوگ آتے ہیں ایک دوسرے کو اپنے حالات اور تکالیف سناتے ہیں تو ایک دوسرے کا ایمان تازہ ہوتا ہے۔صحابیہ آپس میں کہا کرتے تھے او ایمان تازہ کریں اور یہ اس طرح کہ ایک دوسرے کے حالات سنتے اور فائدہ اُٹھاتے۔پھر اس طرح ایک دوسرے سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔اس غرض کے لئے بھی قادیان آنا ضروری ہے۔چوتھا فائدہ چوتھا فائدہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ لوگوں کو متفرق بھیڑوں کی طرح نہیں بنایا چوتھا فائدہ بلکہ ایک انتظام کے ماتحت رکھا ہے۔ایک شخص کے ہاتھ پر اس نے تمہیں جمع کیا ہے اور وہ خلیفہ ہے۔اور بہ ظاہر ہے کہ جو سامنے رہتا ہے وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو سامنے نہیں ہوتا۔پھر جو زیادہ خط لکھتا ہے وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے جو کہ خط لکھت ہے پھر جو شخص یہاں آکر رہتا ہے اس کی روحانیت کو اس سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہے جو بیاں نہیں آتا یا کم آتا ہے۔چنانچہ میں نے ہر تنجد میں ایک سجدہ قادیان میں رہنے والوں کے لئے دعا کرنے کے مخصوص کیا ہوا ہے۔یوں تو وہ دوسری دُعاؤں میں بھی شامل ہو جاتے ہیں مگر ایک سجدہ میں خاص طور بہ ہر ان کے لئے دُعا کی جاتی ہے پھر بعض اوقات مجلس میں بیٹھے بیٹھے دعا کی تحریک ہوتی ہے اس عله بخاری کتاب الایمان باب قول النبي صلى الله عليه وسلم بنى الاسلام على خمس