انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 447

۴۴۷ اصلاح نفس جیسا کہ میں ابھی کہہ آیا ہوں۔مومن جاہل نہیں ہوسکتا۔مگر جاہل نہ ہونے سے میری یہ مراد نہیں کہ خط پڑھ سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خط نہ پڑھ سکتے تھے مگر ان سے بڑا عالم کون تھا ؟ یا کون ہوگا ؟ ساری دُنیا کے عالم آپ کی جوتیاں اُٹھا کر رکھنے کے بھی قابل نہ تھے۔تم بے شک ظاہری علوم پڑھو مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔اس کے لئے ایک تو قرآن کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔کل میں ان کے متعلق ایک خاص نکتہ بتاؤں گا آج صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ وہ قرآن کی تفسیر ہیں ان کو پڑھو۔خدا کی محبت دل میں پیدا کرو پرومتی نصیحت میں آپ لوگوں کویہ کرنی چاہتا ہوں کہ خدا اور اس کی محبت کے مقابلہ میں باقی سب کچھ ہیچ ہے۔آپ لوگ کہیں گے ہم مسلمان میں پھر خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کیوں نہ ہوگی۔مگر بہت لوگ ہوتے ہیں جن میں حقیقی محبت بہت کم ہوتی ہے۔ان کا اعتقاد خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے متعلق مفصلی یا رسمی ہوتا ہے۔مگر احمدیوں کا ایسا اعتقاد نہیں ہونا چاہئے۔تمہارا خدا تعالیٰ سے محبت کا وہ تعلق ہونا چاہئے جو ماں کو بچہ سے ہوتا ہے۔اگرچہ اس کو بھی عقلی کا جا سکتا ہے مگر یہ عقلی سے اوپر کا درجہ رکھتا ہے۔پس تمہیں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا محبت کا تعلق ہو کہ جب ان کے خلاف کوئی بات سنو تو یہ نہ ہو کہ عقلی اور رسمی لحاظ سے تمہارے اندر جوش پیدا ہو۔بلکہ اس طرح جوش اور محبت پیدا ہو جس طرح تمہارے ماں باپ کو جب کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے تو اس وقت ان کی محبت تمہارے دل میں جوشی مارتی ہے۔یہ تو ضروری بات ہے کہ جس کا باپ مارا جائے گا اس کو نقصان پہنچے گا۔مگر کوئی شخص اس نقصان کی وجہ سے اپنے باپ کے دشمن سے نہیں لڑتا بلکہ اس سے لڑتا ہے کہ وہ اس کا باپ ہے۔بیس تم ان اعتراضات کا جو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود پر کئے جائیں اس لئے دفاع نہ کرو کہ تمہیں ان سے عقلی یا رسمی لحاظ سے تعلق ہے بلکہ اس لئے کرو کہ تمہیں ان سے الفت اور محبت ہے اور ان کی محبت تمہارے رواں رواں میں رچی ہوئی ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگوں کو گالیاں دیتے پھرو یا ان سے لڑنا شروع کر دو۔میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ کسی سے درشتی نہ کرو۔ہاں میں یہ کہوں گا کہ جب تم خدا یا رسول کریم لی اللہ علیکم