انوارالعلوم (جلد 5) — Page 366
انوار العلوم جلد ۵ ۳۶۶ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب عقیدہ ہی نہیں مانتا بلکہ اسبات پر مجھے کامل یقین ہے اور یہ یقین اس امر کا نتیجہ نہیں کہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہوں بلکہ اس یقین کی بناء دلائل اور عینی شواہد پر ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دے سکتا ہوں جو قرآن کریم کے کلام الٹی ہونے کا منکر ہو خواہ وہ ی شخص کے اعتراف کا والی ہونے کا واوان و اعتراضات عقلی ہوں یا نقلی ۔ میں فرشتوں کے متعلق اعتراض اسی طرح میرا یہ یقین ہے کہ فرشتے خیالی یا وہی وجود نہیں ہیں بلکہ ان کا وجود عالم خیال سے باہر بھی موجود ہے اور کر نیوالوں کو جواب دے سکتا ہوں قران کریم نے فرشتوں کی نسبت جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کا ایک ایک لفظ درست ہے اور اگر کسی شخص کو ان کے وجود کے خلاف کوئی اعتراض ہو تو ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے شکوک کا ازالہ کرسکتا ہوں اور فرشتوں کا وجود میں صرف اس لئے ہی نہیں مانتا کرئیں نے قرآن کریم میں ان کا ذکر پڑھا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے محض فضل اور احسان سے میں نے خود بھی ان کی ملاقات کی ہے اور ان سے کئی علوم سیکھتے ہیں اور ان کا انکار الیسا ہی ہے جیسا کوئی نا بینا سورج کی روشنی کا انکار کر دے ۔ جب تک انسان کی روحانی آنکھیں نہ ہوں وہ کب اس بات کا اہل ہو سکتا ہے کہ روحانی وجودوں کو دیکھ سکے ۔ رسول کریم نے ایک آن کیلئے کس کو اللہ کا شریک نہیں بنایا میرا اسبات پر بھی یقین ہے کہ بعثت کے بعد تو الگ رہا بعثت سے پہلے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آن کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں بنایا اور جو لوگ سنتے ہیں کہ آپ نے کبھی بھی مشرکوں کے سینے سے ان کے تین دیوتاؤں کو مان لیا وہ تاریخ سے ناواقف اور حقیقت سے جاہل ہیں وہ اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کریں تو ہم باہر سے نہیں خود انکے دیئے ہوئے لال سے جاہل سے ہی ان کے دعوی کا باطل ہونا ثابت کر دیں گے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ اسلام تمام دنیا کیلئے ہے میں میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ اسلام عرب کے نیم وحشیوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے بہترین متمدن لوگوں کے لئے بھی مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے اور میں ہر اس شخص کے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے تیار ہوں جو اسلام کا حلقہ اثر صرف نیم وحشیوں تک محدود رکھتا ہے ۔ اسلام عملی طور پر یورپ اور ایشیاء کے متمدن ممالک بہ یعنی یونان کے علاقوں ایران اور ہندوستان کی اصلاح کر کے ثابت کر چکا ہے کہ وہ تہذیب کا دعوی کرنیوالے ممالک کے لئے بھی ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ غیر متمدن لوگوں کے لئے اور اگر کسی کو عقلاً اس امر پر