انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 295

انوار العلوم جلد ۵ ۲۹۵ اسلام اور حریت و مساوات کر دیے گئے ہیں چنانچہ سورہ ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِتُ يبا يعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقُنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أولاد هُنَّ وَلَا يَاتِينَ بِبُهُتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يُصِينَكَ فِي مَعْرُونِ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرُ لَهُنَّ اللهَ (الممتحنہ : ۱۳) اصول اور احکام میں فرق نہیں کیا گیا کوئی عقلمند یہ خیال نہیں کر سکتا کہ میرا ہی طلب تھا کہ ان احکام کے سوا اسلام میں اور کوئی حکم ہی نہیں ہیں۔بلکہ میرا مطلب جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہوتا ہے یہی تھا کہ اصولِ اسلام یہی ہیں۔گو ان کے سوا احکام سینکڑوں ہیں۔چنانچہ سائل کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم کے خلفاء کا یہ فرض نہیں کہ وہ دنیا کی چھوٹی حکومتوں کو ظلم سے بچائیں ہیں نے یہی جواب دیا ہے کہ اگر حریت و مساوات کی کوئی ایسی تعریف ہے جو احکام اسلام کے نیچے آجاتی ہے اور کسی اور اسلامی حکم کے مخالف نہیں پڑتی تو اس کی تلقین کرنا خلفاء اسلام کا فرض ہے۔اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے اصول اور احکام میں فرق کیا ہے کیونکہ ایک طرف تو میں نے حریت و مساوات کو اصول اسلام سے خارج کیا ہے اور دوسری طرف یہ دوسری طرف یہ لکھا ہے کہ اگر اس کی کوئی ایسی تعریف کی جائے جو احکام اسلام کے مطابق ہو تو پھر اس کی تلقین فرض ہو جائے گی۔خواجہ صاحب نے اسی فرق کو نہ سمجھتے ہوئے میرے مضمون کا جواب لکھنا شروع کر دیا ہے۔اور حریت و مساوات کو احکام اسلام میں سے ثابت کرنے کی کوشش کر کے یہ فرض کر لیا ہے کہ انہوں نے میرے مضمون کا جواب دے دیا ہے۔حالانکہ نہیں نے یہ لکھا تھا کہ حریت و مساوات کی تمام تعریفات کی رو سے وہ احکام اسلام میں شامل نہیں ہو سکتیں اور نہ میں نے یہ لکھا تھا کہ اصل اور حکم ایک ہی تھے ہے۔کاش وہ ذرہ بھر بھی تدبر سے کام لیتے اور میرے مضمون پر غور کرتے اور یا تو سائل کو خود آگے آکر اپنے مطلب کو بیان کرنے دیتے۔یا خود حریت و مساوات کی تعریف کر کے اس کے متعلق مجھے سے سوال کرتے کہ یہ تعریف احکام اسلام میں شامل ہے یا نہیں ؟ اگر اس تعریف کو میں احکام اسلام میں شامل نہ قرار دیتا اور اگر ان کی تسلی میرے جواب سے نہ ہوتی تو وہ اس کا جواب لکھتے۔