انوارالعلوم (جلد 5) — Page 296
انوار العلوم جلد ۵ ۲۹۶ اسلام اور حریت و مساوات خواجہ صاحب کے نزدیک حریت و مساوات خواجہ صاحب نے اپنے مضمون کو کیوں اُصول اسلام سے خارج کیا گیا کے آخر میں یہ بات ظاہر کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ مجھے دھوکا کس طرح لگ گیا اور کس طرح میں نے حریت و مساوات کو اسلام کے بنیادی اُصول میں سے خارج کر دیا اور بعض آیات ایسی نقل کی ہیں۔جن میں بعض گروہوں کے غیر مساوی ہونے کا ذکر ہے اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ شاید ان آیتوں سے مجھے دھوکا لگ گیا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں خواجہ صاحب کا منشاء یہ نہیں ہے کہ وہ میرے مضمون کو کسی قدر معقولیت کا جامہ پہنائیں بلکہ ان کا اصل منشاء یہ بات ظاہر کرنا ہے کہ وہ ان دلائل سے بھی خوب واقف ہیں جو میں اپنے مدعا کے ثبوت کے لئے پیش کرونگا۔حالانکہ ان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس معاملہ میں دلائل دینا میرے ذمہ نہیں بلکہ سائل کے ذمہ ہے کہ وہ پہلے اپنے سوال کا مطلب بیان کرے۔جب تک وہ اپنے مطلب کو واضح نہ کرے اس وقت تک اس کے سوال کا جواب دینا وقت کا ضائع کرنا ہے۔بلکہ اگر وہ سوال کو واضح کرے گا تو اس کے سوال کا جواب خود اس کی اپنی تشریح میں ہی آجائے گا یا اس پر اپنی غلطی کھل جاوے گی۔اس تمہید کے بعد میں خواجہ صاحب کے مضمون کے مختلف الزامی جواب کی اقسام حصوں پر روشنی ڈالتا ہوں۔خواجہ صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ میں نے سائل کو الزامی جواب دیتے ہیں اور یہ کمزوری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ الزامی جواب سے بالعموم اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔بلکہ صرف سائل خاموش ہو جاتا ہے اور اسی لئے الزامی جواب کو اصولی جواب کے مد مقابل قرار دے کر اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔لیکن جو لوگ کلام کی حقیقت اور اس کے معارف سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ الزامی جواب کئی اقسام کے ہوتے ہیں بعض دلیل کے لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں بعض مضبوط ہوتے ہیں اور بعض ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اصولی جواب بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔کو نسا الزامی جواب کمزور ہوتا ہے وہ الزامی جواب جو زور ہوتا ہے اس کی یہ کونسا شرط ہے کہ اس کے ذریعہ سے کسی عیب کو چھپانے کی کوشش کی جائے یعنی جس پر اعتراض کیا جائے وہ اس بات کو محسوس کرتا ہو کہ اس کی جس بات پر اعتراض کیا گیا ہے۔وہ واقع میں ایک عیب اور کمزوری ہے۔اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے معترض کے کسی عیب کی طرف اشارہ کرے۔مثلاً دو شخص جو مل کر تجارت کر رہے ہیں ان میں سے