انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 294

انوار العلوم جلد ۵ ۲۹۴ اسلام اور حریت و سادات پڑھو۔تو اور بات ہے۔پھر آپ نے فرمایا اور رمضان کے روزے۔اس پر اس نے دریافت کیا کہ ان کے سوا مجھ پر اور روزے بھی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں ہاں تم اپنی خواہش سے زیادہ رکھو تو رکھ سکتے ہو۔پھر آپ نے اس کے سامنے زکوۃ کا مسئلہ بیان فرمایا۔اس نے پوچھا کہ کیا مجھے پر اس سے زیادہ کچھ اور بھی فرض ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ہاں اگر تم اپنی خواہش سے زیادہ دو۔تو یہ اور بات ہے۔اس پر وہ شخص واپس چلا گیا۔اور چلتے ہوئے کہتا گیا۔کہ خدا کی قسم! میں نہ اس سے زیادہ کروں گا نہ کہ رسول کریم نے فرمایا کہ اگر اس شخص نے اپنی بات پوری کر دی تو کامیاب ہو گیا۔اس حدیث میں حج کا ذکر نہیں۔لیکن چونکہ دوسری احادیث میں ارکان اعمال میں حج کو شامل کیا گیا ہے۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیال فرما کہ کہ عرب لوگ حج کو خود ہی ضروری خیال کرتے ہیں۔صرف وہ احکام بیان فرما دیئے جو اسلام میں نئے نازل ہوئے تھے۔غرض عبادت فعلیہ کے یہ چار ارکان ہیں۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں۔اور شراح احادیث اس شخص کے سوال کے متعلق کہ اسلام کیا ہے لکھتے ہیں۔کہ اس کا سوال ان ارکان اسلام کے متعلق تھا جو اعمال سے تعلق رکھتے ہیں (بخاری کتاب الایمان باب الزكوة من الاسلام حاشيه لي رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور علماء اسلام کی تشریح کے مطابق اعمال فعلیہ کے یہی چار ارکان ہیں۔اور یہی چاروں میں نے اپنے جواب میں بیان کئے ہیں۔عبادت ترکیہ یعنی ان احکام میں سے جن کے نہ کرنے عبادت ترکیہ کے اُصولی احکام کو شریعت نے حکم دیا ہے۔میں نے چار اس ہیں کا اصل بیان کئے ہیں۔قتل نہ کرنا، چوری نہ کرنا ، زنانہ کرنا ، خیانت نہ کرنا یہ چار اصل بطور استدلال میں نے قرآن کریم ہی سے لئے ہیں۔کیونکہ قرآن کریم میں قتل کے جرم کی سزا قتل بیان کی گئی ہے اور زنا کی سزا کوڑے۔اور بعض صورتوں میں مطابق فیصلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحم اور چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور ڈاکہ یا چوری کی حد میں آجاتا ہے یا قتل کے دائرہ میں۔اس لئے اس کو میں نے الگ نہیں بیان کیا تھا۔چو تھا جرم جس کے لئے مزا مقرر ہے۔قذف اور افتراء ہے جسے میں نے وسعت کے خیال سے خیانت سے تعبیر کیا تھا۔میں یہی چار احکام ہیں۔جو عبادت ترکیہ کے اصل ہیں۔باقی جس قدر احکام ہیں۔ان کی سزا یا تو غیر معین ہے اور سیاست پر چھوڑ دی گئی ہے یا ان کا معاملہ قیامت پر رکھا گیا ہے۔ان کے سوا باقی تمام عقائد یا اوامر یا نواہی ان ہی کے فروع ہیں۔یا ان کے اندر وہی اصل مخفی ہیں جوان عقائد و اوامر و نواہی میں ہیں۔یہ چاروں نواری یکجائی طور پر عورتوں کی بیعت کے الفاظ میں جمعے صلی اللہ علیہ وسلم