انوارالعلوم (جلد 5) — Page 293
اسلام اور حریت و مساوات دہ اعمال جن کا اسلام نے حکم دیا ہے دوسری قسم ہے اعمال کی۔ان میں سے ایک تو فعلیہ ہیں یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے ایک ترکیہ ہیں۔یعنی جن کے ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔فعلیہ اصول میں نے اپنے خط میں نماز، زکوۃ حج اور روزہ بتائے تھے۔اور یہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ :۔بنى الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَا رَسُولُ اللَّهِ وإقام الصلوة وإيتاء الزَّكوة والحج وصوم رمضان (بخاری کتاب الایمان باب قول النبي صلى الله علیه وسلم بنی الاسلام علی خمس) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے یہ گواہی دنیا کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے رسول ہیں اور نماز ادا کرنی ، زکواۃ دینی اور حج اور رمضان کے روزے۔اسی حدیث میں جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سوال پر کہ اسلام کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ الْإِسْلَامُ أَن تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ وَتُقِيمَ الصَّلوةَ وَتُؤَدِى الزَّكَوةَ الْمَفْرُوضَةَ وَ تَصُومَ رَمَضَان کر بخاری کتاب الایمان باب سئوال جبريل النبي صلى الله عليه وسلم عن الايمان) یعنی اسلام یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نماز کو قائم کرے اور فرض زکوۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔بخاری میں حج کا ذکر نہیں ہے۔لیکن دوسرے بعض راویوں نے حج کا بھی ذکر کیا ہے۔اسی طرح طلحہ بن عبید اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور آپ سے سوال کیا کہ اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا۔خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهُ - قَالَ لَا إِلَّا أَن تَطَوَّعَ قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَوةَ - قَالَ هَلْ عَلَى غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلا أَن تَطَوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا يَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا انْقُصُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدق ربخاری کتاب الایمان باب الزكوة من الاسلام) یعنی اسلام کے اصول پانچ نمازیں ہیں دن اور رات میں۔اس نے پوچھا کہ کیا ان کے سوا مجھ پر کچھ اور بھی فرض ہے۔آپ نے فرمایا۔نہیں ہاں اگر شوق سے زیادہ نماز