انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 292

۲۹۲ اسلام اور تربیت و مساوات یعنی وہ لوگ جو گھر کرتے ہیں۔اللہ اور اس کے رسولوں کا اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانیں گے اور بعض کو نہیں مانیں گے۔اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ تلاش کریں۔یہ لوگ پتے کا فر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے رسوا کرنے والا عذاب مقرر کیا ہے۔پس قرآن کریم کے رو سے عقائد کے اصول جن میں سے کسی ایک کے چھوٹنے پربھی انسان کافر ہو ہو جاتا ہے میں پانچ ہیں۔یعنی اللہ تعالی پر ایمان لانا ، ملانکہ پر ایمان لانا ، کتب پر ایمان لانا ، رسولوں پر ایمان لانا اور یوم الاخر پر ایمان لانا قضاء وقدر برایمان لانا جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔خدا تعالیٰ یہ ہر ایمان لانے میں شامل ہے۔کیونکہ بندہ کا خدا تعالیٰ سے تعلق اس کی قدر کے ہی ذریعہ ہے۔اگر قضاء و قدر جاری نہ ہو تو خدا تعالیٰ اور بندہ کے درمیان کوئی واسطہ ہی نہیں رہتا۔اور اس پر ایمان لانے میں کوئی فائدہ یا روحانی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان بالقدر کو بھی ایمانیات کے اندر شامل کیا ہے۔احادیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے یہی ارکان ہیں۔کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ حضرت جبرائیل آئے اور آپ سے سوال کیا کہ مَا الْإِيْمَانُ ایمان کیا ہے ؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ الايمان أن تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَبِلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ رہماری کتاب الایمان باب سوال جبريل النبي صلى الله عليه وسلم عن الایمان) یعنی ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس کے فرشتوں پیر اور اس کے لقاء پر اور اس کیے رسولوں پر اور یہ کہ ایمان لائے مرنے کے بعد اٹھنے پر اور انیل کی روایت میں برسلے کے بعد کتبہ بھی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی کتب پر ایمان لائے مگر میرے نزدیک اس لفظ کے بغیر بھی کتابوں پر ایمان کا ذکر اس حدیث میں آجاتا ہے کیونکہ اس حدیث میں لقاء کا لفظ ہے جس کے معنے شراح نے خدا تعالیٰ کی ملاقات کے کئے ہیں۔اور یہ معنے ہیں بھی ٹھیک۔مگر انہوں نے اس سے مراد مرنے کے بعد کی ملاقات لی ہے۔حالانکہ یہ بات بعث پر ایسان لانے کے اندر آگئی ہے۔نقاء سے مراد کتب ہی ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ذریعہ ہیں۔بندہ اپنے رب سے اس کے کلام کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے اس کے متعلق ایک لطیف استدلال صاحب بصیرت کے لئے جو دوسروں کی خوشہ چینی پر کفایت نہ کرتا ہو۔آیت کریمہ وَلَقَدْ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ نِقَاته (السجدۃ : ۲۴) سے بھی ہو سکتا ہے۔