انوارالعلوم (جلد 5) — Page 142
انوار العلوم جلد ۵ ۱۴۲ دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا رکھتا تو جوں جوں زمانہ بدلے گا اسے بھی تغیر کرنا پڑیگا ورنہ وہ قائم نہیں رہ سکے گا لیکن اگر کوئی ایسا مذہب ہے جو ہر زمانہ کی ضروریات کو مہیا کرتا ہے وہ بدلے یہ نہیں ہم مان سکتے۔اس کے بعد حضور نے یہ بتایا کہ مسیحیت اور اسلام میں سے کونسا مذہب ہے جو ہر زمانہ کے لئے کافی ہے اس کے لئے اسلام اور عیسائیت کی تعلیم کا مقابلہ کر کے دکھایا کہ عیسائیت کی تعلیم زمانہ کے سامنے نہیں ٹھر سکتی اور اسے بدلا جا رہا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم ایسی ہے کہ اگر زمانہ اس کو چھوڑ کر علیحدہ ہو جائے تو یہ نہیں کہ اس تعلیم کو بدلنے کی ضرورت ہے بلکہ زمانہ کو پھر پھرا کر اسی تعلیم کے ماتحت آنا پڑتا ہے جیسا کہ مسئلہ طلاق اور تعدد ازدواج کے متعلق ہوا ہے۔طلاق کے مسئلہ پر یورپ بڑے بڑے اعتراض کرتا رہا ہے لیکن آخر کار اسے جاری کرنا پڑا ہے اور انگلستان میں بھی اس کے متعلق قانون پاس ہو گیا ہے جس کی بنیادی باتیں انہیں اصول کے مطابق بنائی گئی ہیں جو اسلام نے بتائے ہیں اور جو فقہ حنفیہ میں موجود ہیں۔عیسائیت اور اسلام کی تعلیم کا موازنہ نہایت ہی زبر دست اور مدلل طریق سے کیا گیا اور صاف طور پر واضح کر دیا گیا کہ اسلام اپنی چٹان پر قائم ہے مگر عیسائیت بدل رہی ہے اور اسلام کے مقابلہ پر ہرگز نہیں ٹھہر سکتی اس لئے اسلام ہی دنیا کا آئندہ مذہب ہوگا۔اسی سلسلہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ آجکل مشاہدہ پر بہت زور دیا جاتا ہے اس لئے مذہب کے متعلق بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر خدا پہلے لوگوں سے بولا کرتا تھا تو اب کیوں نہیں بولتا اگر اب بھی بولے تب معلوم ہو کہ جس مذہب کے لوگوں سے بولتا ہے وہ سچا ہے اس سوال کا جواب سوائے اسلام کے اور کوئی نہیں دے سکتا۔اسلام بتاتا ہے کہ خدا جس طرح پہلے بولتا تھا اسی طرح اب بھی بولتا ہے چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مرز صاحب جو اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہوئے تھے ان سے بولا۔پس اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کی پیاس بجھا سکتا اور اس کو پیش آنے والی ضروریات کا علاج کر سکتا ہے اس لئے یہی دُنیا کا آئندہ مذہب ہوگا۔اس کے بعد حضور نے مسلمانوں کی موجودہ حالت کے متعلق بتایا کہ گو یہ خطرناک ہے لیکن یہ بھی اسلام کی صداقت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کے متعلق پہلے سے بتا دیا ہوا ہے کہ جب مسلمان اسلام کو چھوڑ دینگے تو ان کی ایسی حالت ہو جائے گی۔اب چونکہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ ، رسول کریم اور قرآن کو چھوڑ دیا ہے اس لئے ان کی یہ حالت ہو گئی ہے اور ان کے ایسے عقائد ہیں جن سے