انوارالعلوم (جلد 5) — Page 143
۱۴۳ دنیا کا آئندہ مذہب اسلام ہوگا خدا تعالیٰ اور رسول کریم پر سخت ملے ہوتے اور الزام لگتے ہیں۔اس موقع پر میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ایک رویا جو حضور نے کے را پریل شاہ قادریان سے سیالکوٹ روانہ ہونے کے وقت ایک مجمع میں بیان فرمایا اپنے الفاظ میں درج کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ اس کا تعلق اس خاص تقریر سے نہایت صاف طور پر معلوم ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا :- گزشتہ شب میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے اور اس کے پیچھے گلی ہے۔میں نے دیکھا اس گلی میں کچھ لوگ سر نیچے کیئے لیٹے ہیں اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی آدمی کو سجدہ کر رہے ہیں اس پر مجھے سخت غصہ آیا اور میں ان کے پاس گیا کہ انہیں منع کروں لیکن جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ سجدہ نہیں کر رہے بلکہ گال زمین پر رکھ کر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔میں نے بھی آسمان کی طرف دیکھا تو مجھے ایک بہت بڑی آبادی نظر آئی اور اس جگہ خاص روشنی دیکھی جہاں حضرت مسیح موعود ایک کشتی کی شکل کی چیز میں بیٹھے تھے اور وہ نیچے اُترنا چاہتی تھی۔ان لوگوں نے بھی کہا کہ ہم حضرت مسیح موعود کو دیکھ رہے ہیں اس کے بعد وہ کشتی ہوائی جہانہ کی طرح نیچے اتری اور میں حضرت صاحب کو تلاش کرنے لگا لیکن مجھے کہیں نہ ملے۔آخر میں سخت غمگین ہو کر کہ شاید حضرت صاحب مجھ سے ناراض ہیں کہ مجھے نہیں ملے ،والدہ کے پاس گیا کہ ان کے پاس آئے ہوں گے۔اس وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے میں نے ان سے جا کر پوچھا اور کہا کہ حضرت صاحب مجھے نہیں ملے شاید ناراض ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ میں باہر تانگہ پر سیر کو جارہی تھی شریف احمد میرے ساتھ تھا اور عزیز احمد کو بھی میں نے ساتھ لے لیا تھا لیکن حضرت صاحب کے آنے کا سن کر جلدی واپس آگئی ہوں مگر وہ ابھی تک مجھے بھی نہیں ملے اس سے مجھے تسلی ہوئی۔والدہ نے جب میرے آنسو دیکھے تو فرمایا یہ تو رؤیا ہے اور رویا کی تعبیر ہوتی ہے۔یہ سنکر مجھے اطمینان ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ رویا ہے اور حضرت صاحب کے نہ ملنے کی جو وجہ میں نے سمجھی تھی وہ صحیح نہیں ہے۔رویا میں مجھے اس کی تین تعبیریں سمجھائی گئیں۔میں نے کہا یا تو میں ایسی زبان میں کتاب لکھونگا جس میں لکھنے کی مشق نہیں، یا عظیم الشان تقریر کرونگا جو بے نظیر ہوگی یا کوئی بڑا نشان ظاہر ہوگا۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔