انوارالعلوم (جلد 5) — Page 115
انوار العلوم جلد ۵ ۱۱۵ تقریر سیالکوٹ اس کے بدن پر نشان پڑ گئے۔ حضرت مرزا صاحب کی زندگی کا یہ نہایت ہی چھوٹا اور معمولی واقعہ ہے لیکن اس کو سامنے رکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی کس قدر عزت ہے ۔ اکثر لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو مخالفین کے لیکچروں میں جاتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خوشی سے گالیاں سنتے ہیں۔ بعض جوش میں آکر آگے سے گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی درست نہیں اور اکثر بیٹھے سنتے رہتے ہیں ۔ لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں شامل ہونے کی دعوت حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی اور بانیان جلسہ نے اقرار کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی بُرا لفظ استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ لیکن جلسہ میں سخت گالیاں دی گئیں ہماری جماعت کے کچھ لوگ بھی وہاں گئے تھے جن میں مولوی نور الدین صاحب بھی تھے جن کی حضرت مرزا صاحب خاص عزت کیا کرتا تھے جب آپ نے سنا کہ جلسہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی گئی ہیں تو مولوی صاحب کو کہا ۔ وہاں بیٹھا رہنا آپ کی غیرت نے کسی طرح گوارا کیا کیوں نہ آپ اُٹھ کر چلے آئے ۔ اس وقت آپ ایسے جوش میں تھے کہ خیال ہوتا تھے کہ مولوی صاحب سے بالکل ناراض ہو جائیں گے۔ مولوی صاحب نے کہا حضور غلطی ہو سے گئی ۔ آپ نے فرمایا یہ کیا غلطی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں اور آپ وہاں بیٹھے رہیں۔ غرض ایسے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور توقیر کے لئے وقف تھی ۔ کا حضرت مرزا صاحب کے نمونہ کا اثر پر یہ دیکھنا چاہئے کہ آپ کے نون کہ آپ کی اولاد آپ کے متبعین اور آپ کے مریدوں پر کے اور کیا اثر ہوا۔ اس وقت وہ خواہ کتنے ہی کمزور ہوں لیکن اسلام کے لئے غیرت انہی لوگوں میں نظر آئے کی جو حضرت مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں۔ کیونکہ اس وقت اسلام پر حملہ کرنے والوں کا جو کوئی جماعت دے رہی ہے تو وہ وہی ہے جو حضرت مرزا صاحب نے قائم کی ہے ۔ اس سے تو نے کی ہے۔ اس سے ثابت ہے کہ حضرت مرزا صاحب رات دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے میں لگے رہتے تھے ۔ ایسے انسان کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا ۔