انوارالعلوم (جلد 5) — Page 570
انوار العلوم جلد ۵ مبلغ کے معنی اور اس کا کام ہدایات زرین اس تمہید کے بعد میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ مبلغ کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا کام ہے ؟ مبلغ کے معنی ہیں پہنچا دینے والا مگر جب ہم یہ لفظ بولتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا که خواہ وہ کچھ پہنچا دے اس کو مبلغ کہا جائے گا۔بلکہ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسا شخص جو دوسروں کو اسلام کی تعلیم پہنچائے۔آج کل کے مبلغ تو علی مبلغ ہیں۔بعض لوگ نبوت خلی پر ہی بحث کر رہے ہیں مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمارا بھی کچھ فل ہی ظل ہے۔ایمان بھی ملتی ہے تبلیغ بھی ملی ہے۔کیونکہ پہلے اور اصلی مبلغ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ان کی وساطت اور ذریعہ سے ہی دوسرے لوگ مبلغ بن سکتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی حقیقی اور اصلی مومن ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ہم سب خلقی مؤمن ہیں کیونکہ ہم نے مومن بننے کے لئے جو کچھ لیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لیا ہے۔تو حقیقی مبلغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے کس بات کا حکم دیا ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے۔بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے۔اس کو مد نظر رکھ کر اسلامی مبلغ کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دے اور اگر اس میں کوتاہی کرے تو مبلغ نہیں کہلا سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔بلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيكَ مِنْ رَبِّكَ - پہنچا دے جو اتارا گیا ہے تجھ پہر تیرے رب کی طرف سے۔وَإِن لَّمْ تَفْعَلُ نَمَا بَلَّغْتَ رِسَلَتَهُ اور اگر تو نے یہ کام نہ کیا توب خدا کا پیغام نہ پہنچایا۔اس کے اگر یہ معنی کئے جائیں کہ تو نے خدا کا کلام اگر نہ پہنچایا تو کلام نہ پہنچایا تو کلام بے معنی ہو جاتا ہے۔مثلاً کوئی کسے کہ اگر تو نے روٹی نہیں کھائی تو نہیں کھائی یا پانی نہیں پیا تو نہیں پیا۔تو یہ لغو بات ہوگی کیونکہ جب روٹی نہیں کھائی تو ظاہر ہے کہ نہیں کھائی۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں کھائی یا پانی نہیں پیا تو ظاہر ہے کہ نہیں پیا۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں پیا۔اس لئے وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُ نَمَا بَلَغْتَ رِسَلَتَهُ (المائدة : ) کے یعنی نہیں ہیں کہ اگر تو نے خدا کا کلام نہیں پہنچایا تو کلام نہیں پہنچایا۔بلکہ یہ ہیں کہ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ میں جو وسعت رکھی گئی ہے اس میں سے اگر کوئی بات نہیں پہنچائی اس کا کوئی حصہ رہ گیا ہے تو تجھے جو کچھ پہنچانا چاہئے تھا اسے تو نے گویا بالکل ہی نہیں پہنچایا۔کیونکہ وہ کلام بتمام وکمال پہنچا ناضروری تھا۔ه المائدة : ۶۸