انوارالعلوم (جلد 5) — Page 569
انوار العلوم جلد ۵ ۵۶۹ ہدایات زرین لئے بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے۔ان عورتوں نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوکر یہ سمجھا کہ خدا کا انکار کوئی کر ہی نہیں سکتا لیکن اگر ان کی نظر وسیع ہوتی اور وہ دنیا کے لوگوں کی حالت سے آگاہ ہوتیں تو پھر وہ حیرت کے ساتھ یہ نہ کہتیں۔تو ہمارے مبلغوں میں سے بعض ایسے ہیں جن کو عرض کے لحاظ سے تو وسعت حاصل ہے مگر ان کے اندر عمق نہیں ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ لوگوں میں مذہبی مسائل میں کتنا اختلاف ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ کیوں ہے ؟ کیوں پیدا ہوا ہے ؟ اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ ایک شخص کنویں میں جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس میں پانی ہے اور اتنی جگہ میں ہے مگر یہ نہیں جانتا که کشتی گری زمین سے جا کر پانی نکلا ہے اور کسی طرح نکلا ہے۔تو یہ لوگ دنیا کے اعتراضات سے واقف ہیں، دنیا کے خیالات سننے کا انہیں موقع ملا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ دنیا میں دہریت پیدا ہو رہی ہے ، انہیں علم ہے کہ ایسے لوگ ہیں جو مذاہب کے پیروؤں کو حقیر جانتے ہیں اور مذاہب پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں کیوں لوگوں میں ایسے خیالات پیدا ہو رہے ہیں ؟ کیوں وہ مذاہب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؟ تیسری قسم تیسرا گروہ وہ ہے جس کو یہ تینوں باتیں حاصل ہیں۔اس کی نظر بھی وسیع ہے، وہ لوگوں کے خیالات کے عرض سے بھی واقف ہے اور ان کے عمق کا بھی علم رکھتا ہے یعنی ان خیالات کے پیدا ہونے کے جو اسباب ہیں ان سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ ظاہری تغیر کے پس پردہ کیا طاقتیں کام کر رہی ہیں۔تینوں قسم کے لوگوں کو مخاطب کرنے کی غرض اس وقت جو باتیں میں کہوں گا وہ ان تینوں گروہوں کو مد نظر رکھ کر ہوں گی اور گو بعض کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہو گا۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک گروہ یعنی طلباء کو سنانے کی ہی عرض ہے کہ اس کے کان میں اس قسم کی باتیں پڑتی رہیں اور اس کے دل میں نقش ہوتی رہیں۔دوسرے دو طبقوں کے لوگ جو اپنی واقفیت اور تجربہ کی وجہ سے ان باتوں کو سمجھ سکتے ہیں ان کو سنانے کی یہ عرض ہے کہ اگر انہیں معلوم نہ ہوں تو اب واقف ہو جائیں اور اگر معلوم ہوں تو ان پراور غور وفکر کریں اور ان سے اچھی طرح فائدہ اُٹھائیں۔