انوارالعلوم (جلد 5) — Page 571
انوار العلوم جلد ۵ 041 ہدایات زرین پس مبلغ کا کام یہ ہے کہ جو کچھ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ سارے کا سارا دنیا میں پہنچا دے اور جو حصہ جس کے متعلق ہے اسے پہنچائے۔یہ نہیں کہ کسی اور کا حصہ اور ہی کو دے آئے یا بعض کو ان کا حصہ پہنچا دے اور بعض کو نہ پہنچائے۔اگر وہ اس طرح کرے گا تو اپنے فرض سے سبکدوش نہ ہوگا۔بلکہ اس کا فرض ہے کہ جس جس کا حصہ ہے اس تک پہنچا دے۔مثلاً گھروں میں حصے بٹتے ہیں۔لوگ نائنوں کو حصہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں گھروں میں دے آؤ۔اب اگر نائن گودس حصے پہنچانے کے لئے دیئے جائیں۔اور وہ ان میں سے آٹھ تو پہنچا دے۔مگر دو نہ پہنچائے تو وہ یہ نہیں کہ سکتی۔آٹھ جو پہنچا آئی ہوں اگر دو نہیں پہنچائے تو کیا ہوا ؟ پس جس طرح اس کا آٹھ حصے پہنچا دینا دو کے نہ پہنچانے کے قصور سے اسے بری الذمہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح مبلغ اگر ہر ایک کو اس کا حصہ نہیں پہنچاتا بلکہ بعض کو پہنچا دیتا ہے تو وہ بری الذمہ نہیں ٹھہر سکتا۔اس لئے مبلغ کا فرض ہے کہ اسے جس قدرا ور جس کے لئے جو کچھ دیا گیا ہے اسے پہنچا دے۔یہ بھی نہیں کہ سارے کا سارا ایک ہی کو پہنچا دے۔مثلاً اگر ایک شخص کے گھر کے پاس جو آدمی رہتا ہو وہ اسے عیسائیوں ، دہریوں، آریوں وغیرہ کے رد کے دلائل پہنچا دے لیکن جن عیسائیوں ، دہریوں یا آریوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہو انہیں یونی چھوڑ دے۔تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے پہنچا دیا۔کیونکہ اس کا فرض ہے کہ دہریوں کے رد کے دلائل دہریوں کو بتائے اور عیسائیوں کے رد کے دلائل عیسائیوں کو بتانے اور آریوں کے رد کے دلائل آریوں کو پہنچائے۔تو جس طرح کوئی شخص اگر وہ ساری چیزیں نہ پہنچائے جو اسے پہنچانے کے لئے دی جائیں۔اور یا ان سب کو نہ پہنچائے جن کے لئے دی جائیں بری انڈ نہیں ہوسکتا۔اسی طرح مبلغ ساری باتیں نہ پہنچائے اور جس جس کے لئے ہیں اس کو نہ پہنچائے تو وہ مبلغ ہی نہیں ہو سکتا۔مثلاً کوئی اس طرح کرے کہ عیسائیوں میں جائے اور جاکر ان کی تو تعریف کرے اور ان میں سیہودیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے یا ہندوؤں میں جائے اور ان کی تو تعریف کرے لیکن عیسائیوں کے خلاف تقریر شروع کر دے یا غیر احمد بلوں میں جائے اور ان کے بگڑے ہوئے عقائد کے متعلق تو کچھ نہ کہے مگر مجوسیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش سمجھا جائے گا۔اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیغامی ہم سے الگ ہوئے ہیں۔ان کے لیکچراروں کا طویق تھا کہ غیر احمدیوں میں گئے تو عیسائیوں کے نقص بیان کرنے شروع کر دیئے۔ہندوؤں میں گئے تو کسی دوسرے مذہب کی برائیاں بیان کرنے لگ گئے اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کی جو ان کے سامنے ہوتے تعریف کرتے جاتے۔گویا وہ کسی کی ٹوپی کسی کو دیتے اور کسی کی جوتی