انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 38

صداقت احمدیت دعوای حقہ پر عظمت نبی پاک اب رہا یہ کہ کس طرح غور کیا جائے۔اس کے متعلق میں بتاتا ہوں۔غور کرنے کے اور بھی طریقی ہیں لیکن ایک اس وقت پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اب جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کرتا ہے اس کے متعلق یہ دیکھا جاتے کہ اس کے دعوی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہوتی ہے یا ہتک۔اگر اس کے دعوی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک ہوتی ہے تو خواہ سُورج کو اپنے دائیں اور چاند کو اپنے باتیں رکھ کر بھی دکھا دے تو اس کا دعوی مردود ہوگا۔لیکن اگر اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ثابت ہوتی ہے اور آپؐ کی شان بڑھتی ہے تو وہ قابل قبول ہو گا اور کسی مومن کے لئے سوائے اس کے چارہ نہیں کہ اسے قبول کرے۔وفات مسیح و صداقت حقہ اب دیکھتے اس زمانہ میں حسیں انسان نے خدا کی طرف سے ہونے کا دعوی کیا۔اس نے پہلی بات یہ پیش کی ہے کہ حضرت علیسی جن کو خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا فوت ہو گئے ہیں اور میں امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے آیا ہوں۔اس کے متعلق ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات میں اور ان کے دوبارہ آکر رسول کریم کی اُمت کے اصلاح کرنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ہتک۔اگر تنگ ہو تو ہم اس عقیدہ کو ہرگز درست تسلیم نہ کریں گے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ہر طرح سے دلائل کے ساتھ ثابت ہے۔دیگر مذاہب کے لوگوں کا تو یہ قاعدہ ہے کہ اپنے بزرگوں کو جو افضل نہیں ہیں سب انسانوں سے افضل قرار دیتے ہیں۔مگر ہمیں تو خدا تعالیٰ نے سردار ہی ایسا دیا ہے کہ اس کی جتنی بھی عزت و توقیر کریں تھوڑی ہے اور اس کو سب سے افضل کہنا بالکل سچ ہے۔لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس بات کو مد نظر نہ رکھ کر بڑی بڑی ٹھوکریں کھاتی ہیں اور کہیں نکل گئے ہیں۔اس وقت ہم اس بات کو لیتے ہیں کہ حضرت عیسی کی وفات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت ہے یا ان کی زندگی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ نے ان کے دشمنوں سے بچانے کے لئے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اس وقت تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے ۶۳ سال کی عمر میں وفات دے دی اور آپ اسی زمین میں مدفون ہیں۔آپ کو اپنی زندگی میں کئی تکلیفیں پیش آئیں۔مکہ سے آپ کو نکلنا پڑا ، لڑائیوں میں آپ کو زخم لگے ، دشمنوں نے آپ کو تنگ کیا ، لیکن اس ساری زندگی میں خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان چھوڑ پہاڑ پر بھی نہ اُٹھایا۔حضرت عیسیٰ پر تو جب ایک ہی مشکل وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں فوراً