انوارالعلوم (جلد 5) — Page 37
انوارالعلوم جلد ۵ ۳۷ صداقت احمدیت کی ایک حد ہے۔لیکن یہ ادب بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے عام لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے دعوی کو چھوڑ کر باقی خوبیاں تو مانتے جاتے ہیں۔لیکن دعوای کی طرف توجہ نہیں کرتے۔دعوای کی سچائی پر مخالف رائے دیکھو حضرت مرزا صاحب کے متعلق مخالف یہ تو مانتے ہیں کہ آپ سلطان العلم تھے۔چنانچہ آپ کی }) وفات پر اخبار وکیل میں لکھا گیا کہ :- وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو و شخص جو دماغی عجانتا کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تارا مجھے ہوئے تھے۔اور جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے نہیں برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو کے خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔" (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد نمیرسم صفر ۵ ۵۶ ۵۷ مطبوعه ۱۹۶۲ ) کیا جس شخص کی یہ تعریف ہو اس کو پاگل یا مجنون کہا جاسکتا ہے ہرگز نہیں۔اب اس کے متعلق یا تو یہ کہا جائے گا کہ چالاک اور لسان آدمی ہے لوگوں کو فریب میں لانا چاہتا ہے۔یا یہ کہ سچا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہے۔بس یہی دو صورتیں ہو سکتی ہیں کہ یا تو جھوٹا ہے اور خدا تعالیٰ پر افتہ اپکرتا ہے اس لحاظ سے اس سے بڑا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔یا سچا ہے اور واقع میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اس لحاظ سے اس کے دعوی کو ماننا ہر شخص پر فرض ہے۔پس ایک ایسا شخص جو پاگل نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے کا دعوی کرتا ہے اس کی بات کو سننا نہایت ضروری اور اہم ہے۔اگر وہ جھوٹی ہو تو بے شک اسے رد کر دیا جائے ، لیکن اگر بیچی ہو تو پھر اس کا رڈ کرنا آسان نہیں۔آگ سے کھیلنا آسان ہے، لیکن اس کی بات کا رد کرنا آسان نہیں کیونکہ آگ صرف جسم کو جلاتی ہے اور اس کا انکار روح کو جلاتا ہے۔پھر آگ تو پچاس ساٹھ یا سو سال کی زندگی کا خاتمہ کرتی ہے۔لیکن اس کی وجہ سے کروڑوں کروڑ سال کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔پھر آگ دنیا کی خوشی اور آرام سے علیحدہ کرتی ہے مگر اس سے عقبی کا آرام اور اطمینان کھویا جاتا ہے۔پھر آگ عارضی رشتوں اور تعلقوں سے جدا کرتی ہے مگر اس سے خالق اور مالک اور سب سے بڑھ کر محبوب خدا سے جدائی ہو جاتی ہے۔پس اس نہایت ہی ضروری مسئلہ پر جس قدر بھی غور کیا جائے تھوڑا ہے اور ہر ایک انسان کا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعوی کرنے والے کے دعوی کو کسنے اور اس پر غور کرے۔