انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 39

انوار العلوم جلد ۵ ۳۹ آسمان پر اُٹھالیا۔لیکن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر دکھ پر دُکھ آئے مصیبتوں پر مصیبتیں پڑیں مگر خدا تعالیٰ نے انہیں اسی زمین میں رکھا آسمان پر نہ اُٹھایا۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اس قدر بڑھ گتے ہیں کہ رات اور دن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے سوا انہیں کوئی کام ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کے سوا انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔حتی کہ عیسائی بھی کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی الہ علیہ وسلم) کو اور تو خواہ کچھ کہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اُٹھتا بیٹھتا ، کھاتا پنیا ، ہوتا جاگتا ، صبح و شام ، شادی و غمی ، حتی کہ میاں بیوی کے تعلقات میں ، کپڑے پہنتے وقت ، پاخانہ پھرتے وقت غرضیکہ ہر گھڑی اور ہر لحظہ خدا کا ہی نام لیتا ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا کے متعلق اسے جنون تھا۔تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی محبت میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک عیسائی کہتا ہے کہ خدا کا اس کو جنون ہو گیا تھا اس کی تو خدا تعالیٰ مشکلات اور تکالیف میں اس طرح مرد نہیں کرتا کہ آسمان پر اُٹھاتے۔لیکن جب حضرت عیسی کو ذرا تکلیف آتی ہے تو خدا نہیں آسمان پر اُٹھا لیتا ہے۔پھر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو تو دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لئے راتوں رات نگہ سے جانا اور ایک غار میں چھپنا پڑتا ہے مگر حضرت عیسی کے لئے خدا تعالیٰ مکان کی چھت پھاڑ کر انہیں آسمان پر اُٹھا لیتا ہے۔اب بتاؤ ان دونوں میں سے خدا تعالیٰ کا زیادہ پیارا اور محبوب کون ہوا ؟ اس سے خدا تعالیٰ پر الزام آتا ہے کہ جب محمد صلی اللہ حیات مسیح سے خدا و رسول پر الزام علیہ وسلم پیار اور محبت میں سب سے بڑھ گئے تھے تو کیوں خدا تعالیٰ نے ان سے سب سے زیادہ پیار اور محبت ظاہر نہ کی اور ان کے مقابلہ میں کیوں۔حضرت علی سے اپنی محبت اور پیار کا زیادہ ثبوت دیا۔چاہتے تو یہ تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیار میں سب سے بڑھ گئے تھے تو خدا تعالیٰ بھی انہیں کے ساتھ اپنی زیادہ محبت کا ثبوت دیتا اور مشکلات کے وقت انہیں آسمان پر اُٹھا لیتا۔صحابہ کے دل میں آنی کے طور پر یہ بات آئی بھی ہے که یه انسان ایسا نہیں ہے کہ زمین پر وفات پائے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو حضرت عمر جیسا جلیل القدر صحابی تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ جس نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے میں اس کی گردن اڑا دوں گا وہ تو آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے۔اس وقت اس کے خلاف کہنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور سب خاموش ہو گئے کہ اتنے میں حضرت ابو بکر نہ آتے اور سیدھے اندر چلے گئے۔جب جا کر دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ