انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 570

انوار العلوم جلدم بِاللهِ النَا مُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْنَا لا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًاه (الاحزاب : ۱۰ تا ۱۳) یعنی اے مؤمنو! اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جب کہ بہت سے لشکر تم پر حملہ آور ہوئے۔پس ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نہیں دیکھتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا تھا۔ہاں یاد کرو! جب کہ دشمن تمہارے اوپر کی طرف سے بھی اور نیچے کی طرف سے بھی آگیا اور جب کہ تمہاری نظریں سج ہو گئیں اور دل خوف کے مارے مونہہ کو آتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔اس موقع پر مؤمنوں کی سخت آزمائش ہوئی اور وہ خوب ہلائے گئے۔اور یاد کرو! جب کہ منافق اور روحانی بیمار بھی باوجود اپنی بزدلی کے کہہ اٹھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے صرف جھوٹا وعدہ کیا تھا۔اس آیت سے ثابت ہے کہ غزوہ احزاب کے وقت اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی ایسے سامانوں سے مدد کی تھی جن کو وہ نہیں دیکھتے تھے اور ایسی حالت میں مدد کی تھی جب کہ منافق جو طبعاً ڈرپوک ہوتا ہے مسلمانوں کی جاتی طاقت کو دیکھ کر دلیر ہو گیا تھا اور کہنے لگ گیا تھا کہ مسلمانوں کے خدا اور ان کے رسول ہم سے جھوٹ بولتے رہے تھے۔غزوہ احزاب میں ایسے مخفی ذرائع سے خدا تعالٰی نے مسلمانوں کی مدد کی تھی کہ خود مسلمان حیران رہ گئے تھے۔چنانچہ لکھا ہے کہ عین ان دنوں میں جب کہ دشمن اپنے زور پر تھا اور مسلمانوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا ایک روز رات کے وقت رسول کریم ﷺ نے آواز دی کہ کوئی ہے؟ ایک صحابی نے کہا۔میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں۔پھر تھوڑی دیر کے بعد آواز دی۔پھروہی صحابی بولے کہ حضور میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔پھر آپ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا کہ کوئی ہے؟ اسی صحابی نے جواب دیا۔آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ دشمن بھگا دیا گیا۔تم جاکر دیکھو اس کی کیا حالت ہے۔وہ جب گیا تو دیکھا کہ صاف میدان پڑا ہے اور دشمن بھاگ گیا ہے۔بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت جاگ رہے تھے مگر شدت سردی سے بولنے کی طاقت نہ پاتے تھے۔اب بظاہر دشمن کے بھاگنے کے کوئی اسباب نظر نہیں آتے اور اس وقت صحابہ بھی حیران تھے۔مگر جیسا کہ بعد میں بعض لوگوں کے اسلام لانے سے ثابت ہوا اس کے بھی اسباب تھے مگر بخاری کتاب المغازی باب غزوه خندق الخصائص الكبرى مؤلفہ جلال الدین عبدالرحمان بن ابي بكر السيوطى جلد ا صفحہ ۲۳۰ پر ذکر ہے کہ حضرت حذیفہ دشمن کی خبر لانے کے لئے گئے تھے۔