انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 569

العلوم جلد من ۵۶۹ تقدیرانی چنانچہ قرآن کریم میں اس کی ایک مثال موجود ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام کو ان کے مخالفین کہتے ہیں۔وَلَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَ جَمْنُكَ (صور: ۹۲) یعنی اگر تیری جماعت نہ ہوتی تو ہم تجھے ضرور رجم کر دیتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود خواہش کے حضرت شعیب کو رحم نہیں کرتے تھے کیونکہ ڈرتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ناراض ہو کر بدلہ لیں گے۔لیکن جب تک انہوں نے خود اس بات کو ظاہر نہیں کیا لوگوں کو تعجب ہی ہوتا ہو گا کہ کیوں یہ لوگ جوش دکھا کر رہ جاتے ہیں۔ان کے ظاہر کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ تقدیر بھی ایک خاص سبب کے ذریعہ ظاہر ہو رہی تھی۔اس جگہ یہ شبہ نہیں کرنا چاہئے کہ یہ تقدیر خاص کیونکر ہو گئی۔جس کے رشتہ دار زیادہ ہوتے ہیں لوگ اس سے ڈرتے ہی ہیں۔کیونکہ یہ جو کچھ ہو ا عام قانون قدرت کے ماتحت نہیں ہوا بلکہ تقدیر خاص کے ماتحت ہی ہوا۔کیونکہ حضرت شعیب کا دعوی تھا کہ وہ نبی ہیں اور اس دعوئی کے ساتھ ہی انہوں نے دنیا کو بیانگ دہل کہہ دیا تھا کہ وہ کامیاب ہوں گے اور ان کا دشمن ان پر قدرت نہیں پاسکے گا۔پس ان کے دشمن کا ان پر قدرت نہ پانا عام قانون قدرت کا نتیجہ نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ خاص تقدیر تھی اور اللہ تعالیٰ کا ہاتھ دشمنوں کے ہاتھ کو روک رہا تھا۔خصوصاً جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت شعیب کے رشتہ دار خود دشمنوں کے ساتھ ہی تھے اور ان کے مرید نہ تھے۔اور یہ بھی کہ بہت دفعہ بڑے بڑے بادشاہوں کو لوگ قتل کر دیتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے تو اور بھی روشن ہو جاتا ہے کہ یہ تقدیر خاص ہی تھی۔ہے۔اس قسم کی تقدیر کی مثال رسول کریم ﷺ کی زندگی میں جنگ احزاب میں ملتی ہے جنگ احزاب کے وقت آپ کے دشمنوں نے بڑے زور شور سے حملہ کی تیاری کی تھی۔مگر باوجود ان کی تمام کوششوں کے ان سے کچھ نہ بنا۔وہ اس موقع پر دس ہزار کا لشکر لائے تھے اور ایسی خطرناک صورت ہو گئی تھی کہ مسلمانوں کے لئے باہر نکل کر پاخانہ پھرنے کی بھی جگہ نہ رہی تھی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس وقت کی کیفیت کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَ تَكُمْ جُنُودُ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ، وَكَانَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا إِذْ جَاءُ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ