انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 571

ولحلو۔لوم جلد ۴ تقدیر الهی بہت مخفی اور وہ یہ کہ دشمن اچھے بھلے رات کو سوئے تھے کہ ایک قبیلہ کے سردار کی آگ بجھ گئی۔عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس کی آگ بجھ جائے اس پر مصیبت آتی ہے۔اس سردار کے قبیلہ نے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔آخر یہ صلاح ہوئی کہ ہم اپنا خیمہ اکھاڑ کر کچھ دور پیچھے جالگا ئیں اور کل پھر لشکر میں آملیں گے۔یہ صلاح کر کے جب وہ پیچھے جانے لگے تو ان کو دیکھ کر دوسرے قبیلہ نے اور ان کو دیکھ کر تیسرے نے حتی کہ اس طرح سب نے واپس جانا شروع کر دیا اور ہر ایک نے یہ سمجھا کہ دشمن نے شبیخون مارا ہے۔یہ سمجھ کر ہر ایک نے بھاگنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ ابو سفیان جو لشکر کا سردار تھا وہ سراسیمگی کی حالت میں بندھی ہوئی اونٹنی پر سوار ہو کر اسے مارنے لگ گیا کہ چلے۔جب سب بھاگ گئے اور آگے جاکر ایک دوسرے سے پوچھا تو انہیں معلوم ہوا کہ یونہی بھاگ آئے ہیں۔غرض احزاب کے بھاگنے کے اسباب تو موجود تھے مگر نظر آنے والے نہیں تھے بلکہ مخفی تھے۔قرآن کریم میں یہی تشریح آئی ہے کہ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا۔ایسے لشکر جو نظر نہیں آتے تھے اور مخفی تھے۔ادھر رسول اللہ کے کسی اور کو بلانے کی وجہ کیا تھی؟ یہ کہ آپ مسلمانوں کو بتائیں کہ خدا ہی ہے جو تمہیں کامیابی دیتا ہے ورنہ تمہاری تو یہ حالت ہے کہ سردی کے مارے زبانیں اس قدر خشک ہو گئی ہیں کہ محمد ( ا ) بلاتا ہے اور تم اس کی آواز کا جواب نہیں دے سکتے۔ادھر خدا کی یہ قدرت نمائی ہے کہ اس نے تمہارے اتنے بڑے دشمن کو بھگا دیا ہے۔اس تقدیر خاص کے علاوہ جس کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ اسباب تقدیر خاص بلا اسباب پیدا فرماتا ہے ایک تقدیر وہ بھی ہے جو بلا اسباب کے ظاہر ہوتی ہے۔اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔(1) اول وہ تقدیر جس کا ظہور در حقیقت بلا اسباب کے ہی ہوتا ہے۔مگر کسی خاص حکمت کے ماتحت اللہ تعالٰی اس کے ساتھ اسباب کو بھی شامل کر دیتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا کہ احمدیوں کو بالعموم طاعون نہیں ہوگی۔مگر اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی کہا کہ جرابیں پہنیں، شام کے بعد باہر نہ نکلیں اور کونین استعمال کریں یہ اسباب تھے۔مگر حقیقی بات یہی ہے کہ یہ تقدیر بغیر اسباب کے تھی۔