انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 560

انوار الحارم جلد ۵۶۰ تقدیر الهی ہیں یا خدا کرتا ہے۔غرض اس مسئلہ کے متعلق لغو بحثیں کرنے والوں سے بہت بڑی غلطی ہوئی اور یہ رسول کریم ﷺ کی اس حدیث کے مصداق ہو گئے کہ میری امت میں سے ایک قوم ایسی ہوگی جو قدر کے مسئلہ کی وجہ سے مسخ کی جائے گی۔(ترمذی ابواب القدر باب الرضاء بالقضاء) اصل بات تو یہ تھی کہ وہ دیکھتے کہ اس مسئلہ کے فوائد کیا ہر ایک فعل خدا کراتا ہے؟ کیا ہیں؟ مگر انہوں نے اس کو نہ دیکھا اور ایسے رنگ میں اس مسئلہ کو مانا کہ اس سے بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا پڑا۔اور اور بھی جو کوئی ان کی بیان کردہ طرز کو مانے گا نقصان ہی اٹھائے گا۔مثلاً ان لوگوں میں سے ایک فریق کہتا ہے کہ جو کچھ انسان کرتا ہے وہ خدا تعالٰی ہی کراتا ہے۔اب اگر یہ بات درست ہے تو ہم پوچھتے ہیں کہ ادھر تو ہر ایک برے سے برا نعل خدا کراتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں ڈانٹتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ اب یہ عجیب بات ہے کہ آپ ہی خدا پکڑ کر انسان سے زنا کراتا ہے اور جب کوئی کرتا ہے تو کہتا ہے کیوں کرتے ہو ؟ پھر آپ ہی تو ابو جہل کے دل میں ڈالتا ہے کہ محمد () جھوٹا ہے آپ ہی اس کو رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں ہاتھ اٹھانے کے لئے کہتا ہے پھر آپ ہی کہتا ہے اس کو کیا ہو گیا؟ اس کی کیوں عقل ماری گئی ؟ ہم کہتے ہیں یہ تو ظلم ہے اور نہ صرف ظلم ہی ہے بلکہ کم عقلی بھی ہے کہ آپ ہی خدا انسان سے ایک برا فعل کرائے اور پھر آپ ہی ڈانٹے۔اب دیکھو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ بات ماننے کس قدر نقصان ہو سکتا ہے؟ ایسے عقیدہ کے ساتھ تو ایک منٹ کے لئے بھی انسان کا ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔یہ تو قدر والوں کا حال ہے۔اب رہے تدبیر والے۔انہوں نے جو تعلیم پیش کی ہے اس کے تدبیروالوں کی غلطی متعلق اگر وہ خود ہی غور و فکر سے کام لیتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ انہوں نے ان تعلقات پر جو انسان اور خدا تعالی کے درمیان ہیں تبر رکھ دیا ہے۔کیونکہ تعلقات کی مضبوطی اور ان میں زیادتی محبت ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ان کی تعلیم اس محبت کو جو انسانی اور خدا کے درمیان ہے بالکل مٹا دینے والی ہے۔تعلقات کس طرح محبت کا باعث ہوتے ہیں اس کے متعلق مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اخبار عام پڑھ رہے تھے کہ مجھے آواز دی محمود ! "