انوارالعلوم (جلد 4) — Page 561
دم جلد ۴ ۵۶۱ تقدیرانی۔محمود ! محمود ! جب میں پاس گیا تو فرمانے لگے کلکتہ کا فلاں شخص مر گیا ہے۔میں نے حیران ہو کر پوچھا مجھے کیا؟ فرمایا یہ بے تعلقی کا نتیجہ ہے۔اس کے گھر تو ماتم پڑا ہو گا اور تو کہتا ہے مجھے کیا؟ تو تعلق سے محبت پیدا ہوتی ہے مگر تدبیر کے قائل لوگوں کی تعلیم اس کے خلاف ہے۔وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اشیاء پیدا کر دیں اور انسان کو پیدا کر دیا۔اور اس کے بعد اس نے اس کو بالکل چھوڑ دیا کہ جس طرح چاہے کرے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر بندہ اور خدا میں تعلق کیونکر قائم ہو سکتا ہے؟ بے شک جو چیزیں خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں ان کے اندر فوائد بھی ہیں مگر ان کے اندر نقصان بھی تو ہیں۔مثلاً خدا نے آگ بنائی ہے۔اگر اس کے کچھ فائدے ہیں تو نقصان بھی ہیں۔اگر اس سے کھانا پکتا ہے تو لاکھوں کروڑوں روپیہ کا سامان اور گھر بھی جلا کر سیاہ راکھ کر دیتی ہے۔پس ان لوگوں نے تقدیر کے مسئلہ کو اس رنگ میں منوایا کہ ایک تو نعوذ باللہ نعوذ باللہ خدا پر جو تمام عقلوں کا پیدا کرنے والا ہے خلاف عقل کام کرنے کا الزام آتا ہے۔اور دوسرے خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا جو محبت کا تعلق ہے وہ بالکل ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ انسان کے دل میں طبعاً خیال پیدا ہوتا ہے کہ مثلاً آگ جو خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اگر فائدہ پہنچاتی ہے تو نقصان بھی تو کرتی ہے۔پھر اس کے پیدا کرنے میں خدا تعالیٰ کا کیا احسان ہوا ؟ یہ خیالات جب پیدا ہوں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات محبت نہیں پیدا ہو سکتے بلکہ ایسا ہی تعلق رہ جاتا ہے جیسا کہ یہاں کے لوگوں کو امریکہ والوں سے ہے بلکہ اس سے بھی کم کیونکہ امریکہ سے تو مال بھی منگوا لیا جاتا ہے مگر خدا سے کسی بات کی امید نہیں۔غرض اس قسم کے خیالات نے روحانیت کو تعالٰی حد سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔اب میں اصل مسئلہ کی وہ حقیقت بیان کرتا ہوں جو مسئلہ تقدیر کے متعلق ذوقی باتیں قرآن کریم سے ثابت ہے۔پہلے میں اس کی تشریح کروں گا اور پھر اس کے فوائد بتاؤں گا۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ مسئلہ تقدیر کے بعض ایسے پہلو بھی ہیں جن کو بڑے بڑے لوگ بھی بیان نہیں کر سکے اور نہ انہوں نے ان کے بیان کرنے کی کوشش کی۔کیونکہ بعض ایسی باریک باتیں ہیں جو محض زوتی ہوتی ہیں۔ذوقی - میری مراد وہ نہیں جو عام لوگ کہتے ہیں۔یعنی جو باتیں بلا دلیل کے ہوں اور ان کی کچھ حقیقت نہ ہو بلکہ میری مراد اس سے وہ امور ہیں کہ جب تک انسان ان کو خود نہ چکھے ان کو معلوم نہیں