انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 559

م جلد ۴ ۵۵۹ تقدیرانی فائدہ ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اسے معلوم ہو جاتی ہے اور وہ احکام معلوم ہوتے ہیں جن پر چل کر یہ ہلاکت سے بچ جاتا ہے۔اسی طرح بعث بعد الموت پر ایمان ہے اس کا یہ فائدہ ہے کہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی زندگی لغو نہیں بلکہ ہمیشہ جاری رہنے والی ہے اور یہ اس کے لئے کوشش کرتا ہے اسی طرح جتنی باتیں ایسی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری قرار دیا گیا ہے ان میں سے ہر ایک کا فائدہ ہے مگر تقدیر کے متعلق مسلمانوں نے اس بات کو نہیں سوچا کہ اس پر ایمان لانے کا کیا فائدہ ہے ؟ وہ ڈنڈا لے کر کھڑے ہو گئے کہ تقدیر کو مانو۔اس کا جواب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا تھا کہ آگے کہہ دیا جائے اچھا یہی ہماری تقدیر ! تو مسلمان بجائے اسکے کہ اس مسئلہ کو ماننے کے فائدہ پر غور کرتے بیہودہ باتوں کی طرف چلے گئے۔حالانکہ انہیں اسی طرف جانا چاہئے تھا کہ تقدیر کے ماننے کا کیا فائدہ ہے ؟ اگر اس طرف جاتے تو جو تعریف انہوں نے مسئلہ تقدیر کی کی ہے وہ خود بخود لغو ثابت ہو جاتی اور ان پر واضح ہو جاتا کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں یہ تو بالکل فضول بات ہے اور تقدیر کے مسئلہ کا ماننا فضول نہیں ہو سکتا بلکہ روحانیت سے اس کا بہت بڑا تعلق ہے اور اس سے انسان کو بڑا فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ ایمانیات میں وہی باتیں داخل ہیں جن کا انسان کی روحانیت سے تعلق ہے اور جو روحانیت کی ترقی کا باعث ہیں۔پس تقدیر کا ماننا جب انسان پر فرض کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ روحانیت سے اس کا تعلق ہے اور اس سے روح کو فائدہ پہنچتا ہے۔جب یہ ثابت ہو گیا تو پھر اس طرف توجہ کرنی چاہئے تھی کہ معلوم کریں وہ کیا فائدہ ہے جو اس سے پہنچتا ہے۔کیونکہ جب تک اس فائدہ کو معلوم نہ کریں گے اس وقت تک کیا فائدہ اٹھا سکیں گے ؟ مگر افسوس فلسفیوں نے قدر اور جبر کی بحثوں میں عمریں ضائع کر دیں اور ایک منٹ کے لئے بھی اس بات کو نہ سوچا۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بے فائدہ سر پھٹول کرتے رہے اور اس سے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اگر اس امر کو سوچتے اور اس پر عمل کرتے تو ضرور فائدہ اٹھاتے۔چنانچہ ان فلسفیوں کے مقابلہ میں وہ لوگ جنہوں نے تقدیر کے مسئلہ کے متعلق یقین کر لیا کہ یہ ہماری روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے اور پھر اسی پر غور کر کے پتہ لگایا کہ اس کے نہ ماننے کے نقصان کیا ہیں اور ماننے کے فائدے کیا ہیں؟ اور پھر اس علم سے فائدہ اٹھایا۔انہوں نے تو یہاں تک ترقی کی کہ خدا تعالٰی تک پہنچ گئے مگر دوسرے لوگ بیٹھے بخشیں کرتے رہے کہ جو فعل ہوتے ہیں وہ ہم کرتے