انوارالعلوم (جلد 4) — Page 388
رالعلوم جلد ۴ ۳۸۸ عرفان امی لیکن ایسا نہیں کرنا چاہئے۔اول تو میں نے بتایا ہے کہ کوئی بات چھوٹی نہیں ہوتی۔دوسرے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایک فعل دوسرے کا محرک ہوتا ہے۔جس طرح ایک بدی دوسری بدی کا موجب بنتی ہے اسی طرح ایک نیکی دوسری نیکی کی محرک ہوتی ہے۔اس لئے کسی نیکی یا بدی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔آپ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام لانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آج تم لوگ بعض بدیاں کرتے ہو اور انہیں چھوٹا سمجھتے ہو۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ان کا کرنا موت سمجھا جاتا تھا۔اسی طرح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جا رہے تھے کہ قبرستان کے پاس سے گزرے اور فرمایا۔ان دو قبروں والوں کو چھوٹی باتوں سے عذاب ہو رہا ہے۔مگر دراصل وہ بڑی تھیں۔چھوٹی تو اس لئے کہ ان سے بآسانی بچ سکتے تھے۔اور بڑی اس لئے کہ جہنم میں لے جانے کا موجب ہو گئیں۔ان میں سے ایک تو ی پیشاب کی چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔(ترمذی ابواب الطهارة باب التشديد في البول، تو کوئی بات چھوٹی نہیں ہوتی۔بلکہ چھوٹی بڑی نسبت کے لحاظ سے ہو سکتی ہے۔ایک ایسی بات جو انسان کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔وہ خواہ کتنی مشکل اور بڑی ہو۔وہ اس کے لئے چھوٹی ہے۔لیکن جو نہیں کر سکتا یا نہیں کرتا وہ خواہ کتنی ہی معمولی ہو اس کے لئے بڑی ہے مثلاً ایک ایسا شخص ہے جو نماز پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، زکوۃ دیتا ہے، حج کرتا ہے لیکن گالی دینے سے نہیں بچتا۔ہم کہیں گے وہ کیوں اس سے نہیں بچتا۔یہی کہا جائے گا کہ نہیں بچ سکتا۔اور جب اس سے نہیں بچ سکتا تو یہی کام اس کے لئے بڑا ہے۔پس جس برائی میں کوئی گرفتار ہے اور اسے چھوڑتا نہیں وہی اس کے لئے بڑی ہے۔اور جس نیکی کو انسان اختیار نہیں کرتا وہی اس کے لئے بڑی ہے۔حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ جو بات انسان طبعا کر سکتا ہے اس پر اسے ثواب نہیں ملتا۔ثواب ایسے ہی فعل پر ملتا ہے کہ نفس اس کے خلاف کہتا ہو اور خلاف کرنے کی قدرت بھی ہو۔لیکن انسان اس سے بچے۔مثلاً ایک ایسا شخص جس میں شہوت کا مادہ ہی نہیں وہ اگر کے کہ میں زنا نہیں کرتا۔تو یہ اس کے لئے نیکی نہیں ہے۔ہاں اگر وہ چغل خوری چھوڑ دے تو یہ نیکی ہو گی۔اسی طرح جو برائی کسی میں پائی جاتی ہو اس کا چھوڑنا نیکی ہے۔کیونکہ اس کے لئے وہی کبیرہ گناہ ہے۔