انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 389

انوار العلوم جلد " ۳۸۹ عرفان الهی یہ میں نے مجملاً بیان کر دیا ہے کہ عرفان الہی کس طرح پیدا ہو سکتا عرفانِ الہی کے درجے ہے۔آپ لوگ اگر ان باتوں پر عمل کریں گے تو انشاء اللہ بہت بڑا فائدہ اٹھا ئیں گے۔اب میں مختصر طور پر عرفانِ الہی کی دو تین علامتیں بتاتا ہوں کیونکہ زیادہ بیان کرنے کے لئے وقت نہیں۔عرفان الہی کی علامتیں دو قسم کی ہیں۔ایک بیرونی دوسری اندرونی - بیرونی تو یہ کہ حدیث میں آیا ہے نوافل کے ذریعہ انسان اتنا مقرب بن جاتا ہے کہ خدا اس کے ہاتھ اس کے پاؤں، اس کی زبان ہو جاتا ہے۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرفان الہی اس کو حاصل نہیں ہو تا جو صرف فرائض ادا کرتا ہے بلکہ نوافل بھی ادا کرنے ضروری ہیں۔اس کے بعد اسے ایسا عرفان حاصل ہوتا ہے کہ خدا اس کے ہاتھ پاؤں ، ناک کان زبان بن جاتا ہے۔اس سے یہ مراد ہے کہ جو کام وہ کرتا ہے وہ خدا کے کام ہو جاتے ہیں۔یعنی جس طرح خدا کے کام ہو کر رہتے ہیں اور کوئی انہیں روک نہیں سکتا اسی طرح اس کے کاموں کو کوئی روک نہیں سکتا۔اور وہ ضرور ہو کر رہتے ہیں۔وہ جب کسی کو پکڑتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا اور جب کسی کی بات سنتا ہے تو اسے منظور کروا دیتا ہے۔جس پر اپنی توجہ ڈالتا ہے اس کی اصلاح ہو جاتی ہے۔اور جو کچھ کہتا ہے وہ حق کہتا ہے کیونکہ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحَى توخى ( النجم ۴ - ۵) کا مصدق ہوتا ہے۔اس کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے جس کو پکڑتا ہے وہ نکل نہیں سکتا۔تو عرفان حاصل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی صفات انسان پر حاوی ہو جاتی ہیں۔اور خدا کے افعال بھی اس کے ذریعہ جاری ہو جاتے ہیں۔خدا اسے ایسے رنگ میں چلاتا اور اس سے ایسے کام کراتا ہے۔کہ لوگ خدائی کا جلوہ دیکھ لیتے ہیں۔اور وہ جلوہ ایسا ہوتا ہے کہ بعض نادان تو اسے خدا ہی کہنے لگ جاتے ہیں۔اس حالت تک پہنچنے کے لئے کچھ اندرونی تغیرات انسان میں ہوتے ہیں۔اور وہ یہ ہیں۔اول یہ کہ اسے نیکی اور بدی کا علم ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ ایک بات بظاہر بری نہیں معلوم ہوتی۔لیکن جب وہ اسے کرنے لگتا ہے تو اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ بری ہے۔اس لئے چھوڑ دیتا ہے اور بعض اوقات وہ ایک کام کو برا سمجھ کر چھوڑنے لگتا ہے۔لیکن اسے علم دے دیا جاتا ہے کہ یہ اچھی ہے۔تو عرفان کا پہلا درجہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ کو نیکی اور بدی کا علم ہے اسی طرح بندہ کو علم دے دیا جاتا ہے۔لیکن دوسروں کو یہ بات حاصل نہیں ہوتی۔دیکھو