انوارالعلوم (جلد 4) — Page 387
۳۸۷ عرفان التي غرض یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ اپنے نفس پر عجب اور نا امیدی نہ ہونے میں فرق کبھی بد گمانی نہیں کرنی چاہئے اور جیسا کہ دوسرے پر بد گمانی کرنا برا ہے ایسا ہی اپنے نفس کے متعلق بد گمانی کرنا بھی اچھا نہیں بلکہ گناہ ہے۔تو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے دل میں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم شیطان کو اپنے اوپر غالب نہیں ہونے دیں گے۔ناامید نہ ہونے اور اپنے نفس پر بد گمانی نہ کرنے اور معجب اور تکبر میں یہ فرق ہے ہے کہ اول الذکر ہمیشہ آئندہ واقعات کے متعلق ہوتا ہے۔اور آخر الذکر عموما پہلے کاموں پر ہوتا ہے۔خود پسند اور متکبر انسان بہت جلد کام کے وقت گھبرا جاتا ہے۔لیکن جب کام ہو جاوے تو فخر کرتا ہے۔خدا پر توکل کرنے والا اور اپنے نفس پر بد ظنی نہ کرنے والا انسان جب تک کوئی کام ہوتا نہیں اپنی امید کو باندھے رکھتا ہے اور جب وہ ہو جاتا ہے تو پھر اس کا ذکر بھی نہیں کرتا۔یہ ہے کہ بعض لوگ بعض گناہوں کو بہت بڑا قرار دے لیتے ہیں۔اور گیارھویں بات بعض کو چھوٹا قرار دے لیتے ہیں۔اور ان سے بچنے کی زیادہ احتیاط نہیں کرتے۔حالانکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی گناہ بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔قرآن کی رو سے چھوٹا وہی گناہ ہے جس کا خیال آئے مگر انسان کرے نہیں اور جو کرے وہ بڑا ہے۔ان کے متعلق لوگوں نے صغیرہ کبیرہ کی اصطلاحیں خود بخود گھڑی ہیں۔قرآن کریم میں ان معنوں میں ان کا ذکر کہیں نہیں ہے۔اس لئے کسی گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے۔کیونکہ چھوٹا سمجھ کر انسان اس کی پرواہ نہیں کرتا۔کہتے ہیں۔ایک شخص جو اپنے آپ کو بڑا بہادر سمجھتا تھا۔گودنے والے کے پاس گیا اور جا کر کہا۔میرے بازو پر شیر کی تصویر گود دو۔جب وہ گود نے لگا اور اسے درد ہوا۔تو اس نے پوچھا کیا بنا رہے ہو ؟ اس نے کہا شیر کا دایاں کان بنا رہا ہوں۔وہ کہنے لگا کہ اگر کان نہ بنایا جائے تو شیر رہتا ہے یا نہیں۔گودنے والے نے کہا رہتا ہے۔اس نے کہا اچھا اسے جانے دو آگے گورد - پھر جب وہ گودنے لگا تو اس نے پوچھا اب کیا بنانے لگے ہو اس نے کہا بایاں کان۔کہنے لگا۔کیا یہ نہ ہو تو شیر شیر نہیں رہتا۔اس نے کہا رہتا تو ہے۔کہنے لگا چلو اسے بھی جانے دو آگے گورو۔غرض اسی طرح ہر دفعہ وہ کہتا گیا۔حتی کہ گودنے والے نے کہدیا کہ اب تو شیر کا کچھ بھی نہیں رہ گیا پس آپ جائیے۔یہی حال بعض لوگوں کے اعمال کا ہوتا ہے۔وہ ہر ایک بات کو معمولی کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں۔جس سے پیچھے کچھ نہیں رہ جاتا۔-