انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 253

العلوم چاند ۴ اختلافات کا آغاز اسلام میں اذ سے زیادہ لوگوں میں نہیں پائی جاتی تھیں۔غرض آپ کوئی معمولی آدمی نہ تھے۔نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق آپ میں پائے جاتے تھے۔دنیاوی وجاہت کے لحاظ سے آپ نہایت ممتاز تھے۔اسلام میں سبقت رکھتے تھے۔آنحضرت ا آپ پر نہایت خوش تھے۔اور حضرت عمر نے آپ کو ان چھ آدمیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جو حضرت رسول کریم کی وفات کے وقت تک آپ کی اعلیٰ درجہ کی خوشنودی کو حاصل کئے رہے۔اور پھر آپ عشرہ مبشرہ میں سے ایک فرد ہیں یعنی ان دس آدمیوں میں سے ایک ہیں جن کی نسبت رسول کریم نے جنت کی بشارت دی تھی۔کے اتر مذی ابواب المناقب، مناقب عبد الرحمن بن عوف آپ کے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے چھ سال تک حکومت میں کسی قسم کا کوئی فتنہ نہیں اٹھا بلکہ لوگ آپ سے بالعموم بہت خوش تھے۔اس کے بعد یکدم ایک ایسا فتنہ پیدا ہوا جو بڑھتے بڑھتے اس قدر ترقی کر گیا کہ کسی کے رد کے نہ رک سکا۔اور انجام کار اسلام کے لئے سخت مضر ثابت ہوا۔تیرہ سو برس گزر چکے ہیں مگر اب تک اس کا اثر امت اسلامیہ میں سے زائل نہیں ہوا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا باعث فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ بعض لوگوں نے حضرت عثمان کو قرار دیا ہے اور بعض نے حضرت علی کو۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان نے بعض بدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا۔اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علی نے خلافت کے لئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمان کے خلاف مخالفت پیدا کر کے انہیں قتل کرا دیا تاکہ خود خلیفہ بن جائیں۔لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں نہ حضرت عثمان نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علی نے خود خلیفہ بننے کے لئے انہیں قتل کرایا یا ان کے قتل کے منصوبہ میں شریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی ادبر ہی وجو ہا سے تھیں۔حضرت عثمان اور حضرت علی کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے وہ نہایت مقدس انسان تھے۔حضرت عثمان" تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۔اتر مذی ابواب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان، اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جا ئیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہو گا۔بلکہ یہ تھا کہ ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ