انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 252

نلوم جلد هم ۲۵۲ اسلام میں اختلافات کا آغاز آدمی تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسلام اختیار کرنے کے بعد جن خاص خاص لوگوں کو تبلیغ اسلام کے لئے منتخب کیا ان میں ایک حضرت عثمان " بھی تھے۔اور آپ پر حضرت ابو بکر کا گمان غلط نہیں گیا بلکہ تھوڑے دنوں کی تبلیغ سے ہی آپ نے اسلام قبول کر لیا۔اور اس طرح السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں یعنی اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشرو گردہ میں شامل ہوئے جن کی قرآن کریم نہایت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔عرب میں انہیں جس قدر عزت اور توقیر حاصل تھی اس کا کسی قدر پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ جب رسول کریم ایک رؤیا کی بناء پر مکہ تشریف لائے اور اہل مکہ نے بغض و کینہ سے اندھے ہو کر آپ کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی تو آنحضرت ﷺ نے تجویز فرمایا کہ کسی خاص معتبر شخص کو اہل مکہ کے پاس اس امر پر گفتگو کرنے کے لئے بھیجا جارے اور حضرت عمرہ کو اس کے لئے انتخاب کیا۔حضرت عمر نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں تو جانے کو تیار ہوں مگر مکہ میں اگر کوئی شخص ان سے گفتگو کر سکتا ہے تو وہ حضرت عثمان ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کی نظر میں خاص عزت رکھتا ہے۔پس اگر کوئی دوسرا شخص گیا تو اس پر کامیابی کی اتنی امید نہیں ہو سکتی جتنی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ہے۔اور آپ کی اس بات کو حضرت رسول کریم ﷺ نے بھی درست تصور کیا اور انہیں کو اس کام کے لئے بھیجا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کفار میں بھی خاص عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔حضرت عثمان کا مرتبہ رسول کریم ا کی نظر میں رسول کریم آپ کا بہت احترام فرماتے تھے ایک دفعہ آپ لیٹے ہوئے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تب بھی آپ اسی طرح لیٹے رہے۔پھر حضرت عثمان تشریف لائے تو آپ نے جھٹ اپنے کپڑے سمیٹ کر درست کر لئے اور فرمایا کہ حضرت عثمان کی طبیعت میں حیا بہت ہے اس لئے میں اس کے احساسات کا خیال کر کے ایسا کرتا ہوں۔(مسلم كتاب فضائل الصحابة رضى الله عنهم۔باب من فضائل عثمان بن عفان، آپ ان شاز آدمیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسلام کے قبول کرنے سے پہلے بھی کبھی شراب کو منہ نہیں لگایا اور زنا کے نزدیک نہیں گئے۔اور یہ ایسی خوبیاں ہیں جو عرب کے ملک میں جہاں شراب کا پینا فخر اور زنا ایک روز مرہ کا شغل سمجھا جاتا تھا اسلام سے پہلے چند گنتی کے آدمیوں