انوارالعلوم (جلد 4) — Page 254
العلوم جلد ۴ ۲۵۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز ممکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔پس حضرت عثمان ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلاف شریعت بات جاری کرتے اور نہ حضرت علی ایسے انسان تھے کہ خلافت کے لئے خفیہ منصوبے کرتے جہاں تک میں نے غور کیا اور مطالعہ کیا ہے اس فتنہ ہائلہ کی چار وجوہ ہیں۔اول: عموماً انسانوں کی طبیعت حصول جاہ و مال کی طرف مائل رہتی ہے فتنے کی چار وجوہ سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر صاف کیا ہو۔صحابہ کی عزت ان کے مرتبہ اور ان کی ترقی اور حکومت کو دیکھ کر نو مسلموں میں سے بعض لوگ جو کامل الایمان نہ تھے حسد کرنے لگے۔اور جیسا کہ قدیم سے سنت چلی آئی ہے اس بات کی امید کرنے لگے کہ یہ لوگ حکومت کے کاموں سے دست بردار ہو کر سب کام ہمارے ہاتھوں میں دے دیں اور کچھ اور لوگوں کو بھی اپنا جو ہر دکھانے کا موقع دیں۔ان لوگوں کو یہ بھی برا معلوم ہو تا تھا کہ علاوہ اس کے کہ حکومت صحابہ کے قبضہ میں تھی اموال میں بھی ان کو خاص طور پر حصہ ملتا تھا۔پس یہ لوگ اندر ہی اندر جلتے رہتے تھے اور کسی ایسے تغیر کے منتظر تھے جس سے یہ انتظام درہم برہم ہو کر حکومت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے۔اور یہ بھی اپنے جو ہر لیاقت دکھاویں اور دنیاوی وجاہت اور اموال حاصل کریں۔دنیاوی حکومتوں میں ایسے خیالات ایک حد تک قابل معافی ہو سکتے ہیں بلکہ بعض اوقات معقول بھی کہلاتی سکتے ہیں۔کیونکہ اول دنیاوی حکومتوں کی بنیاد کلی طور پر ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور ظاہری اسباب ترقی میں سے ایک بہت بڑا سبب نئے خیالات اور نئی روح کا قالب حکومت میں داخل کرنا بھی ہے۔جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے کام کرنے والے خود بخود کام سے علیحدگی اختیار کر کے دوسروں کے لئے جگہ چھوڑ دیں۔دوم: حکومت دنیاوی کو چونکہ نیابت عامہ کے طور پر اختیارات ملتے ہیں اس لئے عوام کی رائے کا احترام اس کے لئے ضروری ہے اور لازم ہے کہ وہ لوگ اس کے کاموں کے انصرام میں خاص دخل رکھتے ہوں جو عوام کے خیالات کے ترجمان ہوں۔مگر دینی سلسلہ میں معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے وہاں ایک مقررہ قانون کی پابندی سب اصول سے مقدم اصل ہوتا ہے اور اپنے خیالات کا دخل سوائے ایسی فروعات کے جن سے شریعت نے خود خاموشی اختیار کی ہو قطعاً ممنوع ہے۔دوم دینی سلسلوں کو اختیارات خدا تعالی کی طرف سے ملتے ہیں اور اس کی