انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 148

انوار العلوم جلدم ۱۴۸ حقيقة الرؤيا کوئی ایک سال کیلئے نہ تھا بلکہ ہمیشہ ہمیش کیلئے ہے اور تمہیں کسی سال بھی اس کے کرنے میں سُست اور غافل نہیں ہونا چاہئے۔میں نے تمہیں صرف اسی سال کیلئے نہیں سمجھایا تھا جو گذر گیا ہے بلکہ آئندہ کیلئے بھی اور اس وقت تک کیلئے بھی جب تک کہ میں اور آپ زندہ ہیں نصیحت کی تھی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آپ لوگ کوشش اور محنت کے ساتھ اس ترقی کو جو اس سال کی ہے آئندہ کیلئے بھی جاری رکھیں گے اور علاوہ مالی خدمات کے تبلیغی خدمات میں بھی کمی نہ آنے دیں گے۔بیشک سلسلہ کو مالی خدمات کی بھی ضرورت ہے اور بہت بڑی ضرورت ہے لیکن تبلیغی خدمات کی اس سے بھی بڑھ کر ضرورت ہے اس لئے آپ لوگ جہاں مالی خدمات کی طرف توجہ کریں وہاں تبلیغی خدمات سے بھی غافل نہ رہیں۔مت دین کیلئے زندگی وقف کرنے کی تحریک خدمت دین کو ایک اعلیٰ پیمانہ پر جاری کرنے کیلئے چند دن ہوئے میں نے تجویز کیا تھا کہ ہماری جماعت کے کچھ دوست اپنی زندگیاں اس شرط پر وقف کریں کہ کلی طور پر وہ اپنے آپ کو میرے سپرد کردیں تا میں انہیں تبلیغ کے کام میں جس رنگ اور جس طریق۔مناسب سمجھوں لگادوں۔انہیں جماعت کے فنڈوں سے کوئی تنخواہ یا کسی قسم کی مدد نہیں دی جائے گی بلکہ انہیں خود ہی محنت اور مشقت کر کے اپنے اخراجات کو چلانا اور اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔اس تجویز کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جس کام کا کرنا ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا بوجھ روپے نہیں اٹھا سکتے ، پھر ہماری جماعت کی تعداد دنیا کے مقابلہ میں بہت قلیل ہے اور غریبوں کی جماعت ہے، اس کے پاس اتنا روپیہ ہی کہاں ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا کو فتح کرسکے۔پس جب مالی طور پر یہ کام نہیں ہو سکتا تو اس طرح ہونا چاہئے کہ کچھ لوگ بعض ایسے پیشے اور ہنر سیکھیں جن کے ذریعہ وہ اپنی ضروریات کا خود انتظام کر سکیں اور جہاں انہیں تبلیغ کیلئے بھیجا جائے وہاں چلے جائیں۔اس اعلان میں میں نے میں آدمی مانگے تھے لیکن اس وقت تک تمہیں کی درخواستیں آچکی ہیں جن میں سے تین گریجوایٹ ہیں اور چھ سات مولوی ہیں اور چھ سات ایسے ہیں جو اچھی تنخواہیں پاتے ہیں۔انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کرنے کی درخواستیں دی ہیں اور لکھا ہے کہ خواہ ہمیں سوکھے ٹکڑے کھا کر ہی کیوں نہ گزارہ کرنا پڑے ہم دین کیلئے اپنی زندگیاں وقف کرنے کیلئے تیار ہیں۔ہم اپنا گزارہ خود کریں گے اور جہاں ہمیں بھیجا جائے گا وہیں جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے لوگوں کا اس قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہی بغیر کسی اور دلیل کے ہمارے سلسلہ کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔میں پورے وثوق کے