انوارالعلوم (جلد 4) — Page 149
حقيقة الرؤيا انوار العلوم جلد ۴ مضمون ۱۴۹ ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دوسرے مسلمان کہلانے والوں میں اگر یہ اعلان کیا جائے تو ان لیاقتوں اور قابلیتوں والے انسان بڑی بڑی اپیلوں اور پر زور لیکچروں کے ساتھ بھی نہ مل سکیں گے۔مگر یہاں دیکھو صرف ایک خطبہ میں اعلان کیا جاتا ہے اور مطالبہ سے زیادہ آدمی تیار ہو جاتے ہیں جن میں سے اکثر مختلف کام جانتے ہیں لیکن چونکہ ضروریات بہت زیادہ ہیں اور ہر ایک شخص اس کام کے قابل بھی نہیں ہوتا، پھر یہ بھی ہے کہ بعض جن کاموں پر لگے ہوئے ہیں ان کا وہیں رہنا ضروری ہے اس لئے ابھی ضرورت ہے کہ اور دوست بھی اس قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کریں۔پس اس وقت میں اعلان کرتا ہوں کہ اور دوست بھی اس کام کی اہمیت کو سوچیں، غور کریں اور استخارہ کریں اور پھر اگر اپنے آپ کو وقف کرنے کیلئے تیار ہوں تو مجھے اطلاع دیں تاکہ ہمیں آدمی اتنی تعداد میں حاصل ہو سکیں جس سے مفید اور کام کے قابل اشخاص کو مچن لیا جاسکے۔اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو اس وقت بیان کرنے کا ارادہ ہے۔میرے نزدیک یہ مضمون موجودہ زمانہ کیلئے نہایت ضروری اور مفید ہے نہایت اہم اور میرے خیال میں اس مضمون کو سمجھے بغیر بہت کم لوگ ابتلاؤں اور ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں اس لئے میں خاص طور پر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسے نہایت غور سے سنیں اور سمجھنے کی نیت اور ارادہ سے سنیں۔کئی لوگ اکثر باتیں محض لطف اور مزے کیلئے سنتے ہیں مگر آپ لوگ سمجھنے اور یاد رکھنے کی خاطر سنیں۔آپ لوگوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے تحریری طور پر یا زبانی اس بات کی شہادت دی ہے کہ ذکر الہی کے متعلق آپ نے قواعد اور طریق بتائے تھے ان پر عمل کر کے ہم نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔میں یقین رکھتا وں کہ اگر وہ اس مضمون ہے۔" عمل کرنے کی کوشش کریں گے (گو اس کا کوئی ظاہری عمل نہیں بلکہ اس کو اپنے قلب میں بٹھانا اور یاد رکھنا ہے) تو اس زمانہ کے ابتلاؤں سے بہت حد تک محفوظ رہیں گے۔یہ مضمون الہامات کشوف رؤیا اور خوابوں کی حقیقت کے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ لکھے ہوئے پر بہت کم لوگ توجہ کرتے ہیں۔قرآن کریم میں سبھی کچھ لکھا ہوا تھا مگر جب لوگوں نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو خدا تعالی کو اپنے ایک نبی کے ذریعہ دوبارہ سنانا پڑا۔پھر حضرت مسیح موعود نے سبھی کچھ لکھا ہے اور جو کچھ تمہیں سنایا جاتا ہے وہ اسی درخت کی خوشہ چینی ہوتی ہے جو حضرت مسیح موعود نے لگایا ہے مگر اکثر لوگ چونکہ اپنے طور پر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتے یا خود اس سے مستفید ہونے کی قابلیت نہیں رکھتے اس لئے ہمیں سنانا پڑتا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ