انوارالعلوم (جلد 4) — Page 147
انوار العلوم جلدم ۱۴۷ حقيق الرؤيا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ حقيقة الرؤيا (فرموده ۲۸ - دسمبر ۱۹۱۷ء بر موقع جلسہ سالانہ قادیان) أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالنَّحْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى أَفَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى وَلَقَدْ رَاهُ نَزَلَةٌ أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى۔عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأى مِنْ أَيْتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى (النجم: ١٩٢١) گل میں نے جو تقریر کی تھی اس کے بعض حصے رہ گئے تھے جو میرے نزدیک بعض اہم اور ضروری امور پر مشتمل تھے لیکن چونکہ وہ مستقل اور علیحدہ مضامین تھے اس لئے ان کے نہ بیان کرنے کی وجہ سے تقریر کے پورا ہونے میں کوئی نقص اور حرج نہیں ہوا اور آج بھی میں ان کو چھوڑ کر ہی مضمون کو بیان کرتا ہوں جس کے سنانے کا آج ارادہ تھا مگر پیشتر اس کے کہ اس مضمون کو شروع کروں اختصار کے ساتھ بعض کل والی باتیں بیان کرتا ہوں۔میں نے گزشتہ سالانہ جلسہ پر اپنی جماعت کو اس طرف متوجہ کیا تھا کہ وقت بہت نازک ہے اس لئے اپنے فرائض سمجھنے کی طرف بہت زیادہ توجہ ہونی چاہئے سو خداتعالی کا فضل اور احسان ہے کہ جماعت نے اس نصیحت کو سنا ہی نہیں بلکہ بہت حد تک اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَمِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم:(۸) اگر تم شکر کرو تو میں اور زیادہ انعام کروں گا۔اس لئے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور پھر آپ لوگوں کو مکرر توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارا کام کوئی ایک سال کا کام نہیں کہ ایک سال کوشش کر کے کہیں کہ بس ختم کر لیا بلکہ ہمارا وہ کام ہے جو زندگی بھر ختم ہونے والا نہیں ہے۔اس لئے آپ لوگ خوب یاد رکھیں کہ خدمت دین کا کام