انوارالعلوم (جلد 4) — Page 299
۲۹۹ اسلام میں اختلافات کا آغاز اہل مصر حضرت علی کے پاس گئے وہ اس وقت اہل مصر کا حضرت علی کے پاس جانا مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے اور ان کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بد انتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں۔ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لئے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ان کے بعد اس عہدہ کو قبول کریں گے انہوں نے ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم نے پیشگوئی کے طور پر ذوالمروہ اور ذو خشب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا) پر ﷺ ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی۔(البداية والنهاية جزء منا مطبوعہ بیروت (۱۹۶۶ء) پس خدا تمہارا برا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جاویں گے اور یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔اہل کوفہ حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے اہل کوفہ کا حضرت زبیر کے پاس جانا عرض کیا کہ آپ عمدہ خلافت کے خالی ہونے پر اس عہدہ کو قبول کریں۔انہوں نے بھی ان سے حضرت علی کا سا سلوک کیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور اپنے پاس سے دھتکار دیا اور کہا کہ سب مؤمن جانتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ ذر المروہ اور ذو الخشب اور اعوص پر ڈیرہ لگانے والے لشکر لعنتی ہوں گے۔اسی طرح اہل بصرہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے اہل بصرہ کا حضرت طلحہ کے پاس جانا پاس آئے اور انہوں نے بھی ان کو رد کر دیا اور رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی اور آپ کے ان پر لعنت کرنے سے ان کو آگاہ کیا۔(طبری جلد 4 صفحه ۲۹۵۶ ، ۲۹۵۷ مطبوعہ بیروت) جب یہ حال ان لوگوں نے دیکھا اور اس طرف سے محمد بن ابی بکر کا والی مصر مقرر ہونا بالکل مایوس ہو گئے تو آخر یہ تدبیر کی کہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اور صرف یہ درخواست کی کہ بعض والی بدل دیئے جائیں۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے کمال شفقت اور مہربانی سے ان کی اس