انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 298

دار العلوم جلد ۴ ۲۹۸ اسلام میں اختلافات کا آغاز اور عبد اللہ بن الاصم نے اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو مشورہ دیا کہ جلدی اچھی نہیں وہ اگر جلدی کریں گے تو اہل مصر کو بھی جلدی کرنی پڑے گی اور کام خراب ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اہل مدینہ نے ہمارے مقابلہ کے لئے لشکر تیار کیا ہے۔اور جب ہمارے پورے حالات معلوم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس قدر تیاری کی ہے تو ہمارا پورا حال معلوم ہونے پر تو وہ اور بھی زیادہ ہوشیاری سے کام لیں گے اور ہماری کامیابی خواب و خیال ہو جائے گی۔پس بہتر ہے کہ ہم پہلے جا کر وہاں کا حال معلوم کریں۔اور اہل مدینہ سے بات چیت کریں۔اگر ان لوگوں نے ہم سے جنگ جائز نہ سمجھی اور جو خبریں ان کی نسبت ہمیں معلوم ہوئی ہیں وہ غلط ثابت ہو ئیں تو پھر ہم واپس آکر سب حالات سے تم کو اطلاع دیں گے اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سب نے اس مشورہ کو پسند کیا۔اور یہ دونوں شخص مدینہ گئے اور پہلے رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات سے ملے۔اور ان سے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ ہم لوگ صرف اس لئے آئے ہیں کہ حضرت عثمان سے بعض والیوں کے بدل دینے کی درخواست کریں اور اس کے سوا ہمارا اور کوئی کام نہیں۔سب از اواج مطہرات نے ان کی بات کے قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس بات کا نتیجہ اچھا نہیں۔پھر وہ باری باری حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے یہیں وجہ اپنے آنے کی بیان کر کے اور اپنی نیک نیتی کا اظہار کر کے مدینہ میں آنے کی اجازت چاہی۔مگر ان تینوں اصحاب نے بھی ان کے قریب میں آنے سے انکار کیا اور صاف جواب دیا کہ ان کی اس کارروائی میں خیر نہیں ہے۔(طبری جلد 4 صفحہ ۲۹۵۶ مطبوعہ بیروت) یہ دونوں آدمی مدینہ کے حالات معلوم کر کے اور اپنے مقصد میں ناکام ہو کر جب واپس گئے اور سب حال سے اپنے ہمراہیوں کو آگاہ کیا تو کوفہ، بصرہ اور مصر تینوں علاقوں کے چند سر بر آورده آدمی آخری کوشش کرنے کے لئے مدینہ آئے۔اہل مصر عبد اللہ بن سبا کی کے ماتحت حضرت علی کو وصی رسول اللہ خیال کرتے تھے اور ان کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار نہ تھے۔مگر اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو فساد میں تو ان کے شریک تھے مگر مذہباً ان کے ہم خیال نہ تھے۔اور اہل کوفہ زبیر بن عوام اور اہل بصرہ طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کو اپنی اغراض کے لئے مفید سمجھتے تھے۔اس اختلاف کے باعث ہر ایک قافلہ کے قائم مقاموں نے الگ الگ ان اشخاص کا رخ کیا جن کو وہ حضرت عثمان کے بعد مسند خلافت پر بٹھانا چاہتے تھے۔