انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 465

انوار العلوم جلد ۴۶۵ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے ۶۵ مطبع پر جنگ پریس لاہور مطبوعہ بار سوم (۱۹۷۵ء) بارہ تیر تھوڑے نہیں ہوتے۔آج کل تو کسی شخص کو اگر دو تین تیر لگ جائیں تو وہ گر پڑے۔تو جتنا جتنا علاقہ مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی اس کا اثر بھی بڑھتا جاتا ہے۔اسلام ہی در حقیقت ریشنلزم ہے لوگ تو بے اصلی ریشنلزم اسلام ہی ہے عقلی کا نام عقل رکھتے ہیں مگر اسلام عقل کو عقل کہتا ہے یہ اسلام ہی ہے جو کہتا ہے کہ جس بات کو مانو دلیل سے مانو - قرآن کریم میں اس کی مثال ہے۔اللہ تعالیٰ رسول کریم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو رسول ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو سچ ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے مگر اللہ کہتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں (المنفقون: ۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ جو کچھ کہتے ہیں بے دلیل اور اوپرے دل سے کہتے ہیں اس لئے جھوٹے ہیں۔پس قرآن کریم تو کہتا ہے کہ جو مانو دلیل سے مانو۔لوگ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ وہ اس آیت پر غور کریں کہ رسول کریم ﷺ کے پاس لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور آپ کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں لیکن خدا تعالی ان کے متعلق کہتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں جو مذہب تلوار سے پھیلایا جاوے اس کی تو یہ کوشش ہوتی ہے کہ لوگ نام ہی اختیار کرلیں۔مگر یہاں معاملہ بر عکس ہے۔لوگ خود آکر کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن ان کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تم مسلمان نہیں کیونکہ تم بے دلیل اور جھوٹے دل سے کہتے ہو۔یہ ایک نہایت لطیف بات ہے کی سچا ریشنلزم ہے کہ کوئی عقیدہ جو دل سے نہ مانا جائے اور جس کی بنیاد دلائل پر نہ ہو ماننے کے قابل نہیں۔اس بات کو خدا تعالٰی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ (الانقال : (۳۳) اسلام کی بنیاد یہ ہے کہ جس نے مرنا ہے وہ دلیل سے مرے اور جس نے زندہ ہوتا ہے وہ دلیل سے زندہ ہو اور عقل یہی چاہتی ہے کہ جس علم کے متعلق دریافت کرنا ہو اس کے حقیقی ماہر کے پاس جاویں مثلاً مریض ہو تو طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جارے اور ڈاکٹروں میں سے بھی اس کو چنے جو واقع میں اس فن کو جانتا ہو۔مگر یہ بے عقلی ہے کہ انسان ایک ڈاکٹر کا انتخاب کر کے پھر اس کو اس کے نسخہ کے متعلق مشورہ دے۔عقل کا پہلا کام انتخاب کرتا ہے اس کو چاہئے کہ ڈاکٹر کے انتخاب کرنے میں محنت کرلے۔مگر جب اس نے ڈاکٹر کا انتخاب کر لیا تو پھر اس کا دوسرا کام یہ ہے کہ اس کے بتائے ہوئے نسخہ عد إِذَا جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنفِقِينَ لكَذِبُونَ۔مرصدا