انوارالعلوم (جلد 4) — Page 464
انوار العلوم جلدم ۴۶۴ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ کوئی علم اور کوئی تازہ ترین تحقیق قطعا قطعا مجھ پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی۔خواہ کسی علمی طریق پر اسلام کی صداقت کی جانچ کی جائے میں اس کا ثبوت دینے کے لئے تیار ہوں اور یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔ورنہ ایمان کا اعلیٰ درجہ اس سے بہت بلند ہے پس ایمان کی یہ خصوصیت ہے کہ خدا خود سمجھائے۔بیسیوں دفعہ نئے سے نئے علوم سامنے آتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ گھبرا جاتے ہیں لیکن مجھے اسی وقت اس کے متعلق خدا تعالیٰ علم دیتا ہے اور اس وسعت سے دیتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے اور ایسے ایسے علم دیتا ہے جن کے متعلق پہلے میں نے کبھی کوئی بات نہ پڑھی ہوتی ہے نہ سنی۔اور وہ علم جو آتا ہے وہ خدا کی طرف سے کشف کے طور پر آتا ہے۔یہاں پر لوگ آتے ہیں اور گفتگو کرتے ہیں اور بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ آپ نے تو یہ علم خوب پڑھا ہوا ہے حالانکہ میں نے وہ علم نہیں پڑھا ہوتا اور یہ بات ایمان کو اور بھی پختہ کرتی ہے۔خواہ کوئی سا علم ہو جس کو لوگ کتنا ہی اچنبا خیال کرتے ہوں اس کے سامنے آنے پر فورا خود بخود اس کی حقیقت کھل جاتی ہے۔اگر وہ بات غلط ہو تو اس کی غلطی اور اگر درست ہو تو اس کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔علاقوں کا تعلق اتنا جس قدر علاقہ مضبوط ہو اسی قدر اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے ہوتا ہے مثلاً آپ کے ساتھ نام کا تعلق ہے یہ لوگ صرف اتنا جانتے ہیں کہ آپ کو اسلام سے محبت ہے۔اس علاقہ کی وجہ سے کتنے ہی آپ کو آگے ملنے کے لئے گئے اور یہ جو اس قدر یہاں موجود ہیں سب آپ کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں۔حالانکہ یہ صرف نام کا تعلق ہے اور پھر جتنا جتنا تعلق بڑھتا جاتا ہے اس کے مطابق اس کا اثر بڑھتا جاتا ہے۔رسول کریم ا لا لا یا اس سے بھی صحابہ کا ایک تعلق تھا۔رسول کریم ﷺ کو جنگ احد میں پتھر لگے اور آپ بے ہوش ہو گئے۔اس وقت ایک صحابی ابو دجانہ حضور کے پاس تھے وہ آپ کی طرف منہ اور مخالفوں کی طرف پیٹھ کر کے کھڑے ہو گئے۔ان کی پیٹھ پر بارہ تیر لگے بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو تیر لگنے سے درد نہیں ہوتی ہے تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔پھر کہا گیا کہ اس کا اظہار تو نہیں کیا۔جواب دیا کہ میں نے اس وقت اُف نہ کی کہ اُن کے ساتھ انسان کا بدن کانپتا ہے۔میں جانتا تھا کہ اگر اُف بھی کی تو جسم میں لرزہ پیدا ہو گا اور ممکن ہے اس لرزش میں کوئی حصہ حضور کے جسم کا تیر کی زد میں آجائے اور تیر آلگے اس لئے میں نے اس وقت اُف تک نہیں کی۔(سیرت ابن ہشام اردو جلد ۲ صفحہ