انوارالعلوم (جلد 4) — Page 466
انوار العلوم جلدم آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے کو قبول کرے اور خود اس کا استاد نہ بنے کیونکہ ہر ایک شخص اپنے پیشہ کو خوب سمجھتا ہے۔اسی طرح مذاہب کا حال ہے۔عقل چاہتی ہے کہ جب تک کسی مذہب کی صداقت ثابت نہ ہو اس کو قبول نہ کیا جائے۔لیکن یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ سچاند ہب دیکھ کر اور معلوم کر کے پھر اس کے حکموں پر جرح کرے اور اپنے منشاء کے مطابق اس کو بنانا چاہے۔خدا تعالی ہی بتا سکتا ہے کہ وہ کس طرح راضی ہو سکتا ہے۔ہم اپنے ایک مہمان کو بغیر اس کے بتائے ہوئے کہ وہ کس طرح راضی ہو سکتا ہے، راضی نہیں کر سکتے۔پھر خدا تعالٰی کو بغیر اس کے بتائے کے اپنے من گھڑت طریقوں پر قدم مار کر کس طرح راضی کر سکتے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ اس سے پوچھیں کہ خدایا تیری رضامندی کس مذہب میں ہے اور خدا کا کام ہے کہ وہ بتائے کہ کو نسا مذ ہب اس کا پسندیدہ اور اس کے منشاء کے مطابق ہے اور کس مذہب پر عمل کر کے ہم اس کی رضامندی حاصل کر سکتے ہیں۔پس اسلام نے عقل کی بنیاد کو قائم کیا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ڈاکٹر کے انتخاب کے وقت عقل سے کام لیں لیکن جب ہم ایک ڈاکٹر کا انتخاب کرلیں تو یہ ہمارا فرض نہیں کہ ہم اس کے بتائے ہوئے نسخہ پر جرح کریں۔پہلی کتابوں کا یہ طریق تھا کہ وہ کہتی تھیں کہ ہم کہتے ہیں کہ تم مان لو لیکن اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔دیر کی بات ہے کہ ایک پادری مجھے ایک مقام پر ملا وہ تیس سال سے ہندو مسلمانوں میں تبلیغ کر رہا تھا۔میں نے چاہا کہ اس سے گفتگو کروں۔اس سے ملاقات کی۔وہ چونکہ بازار میں ملا تھا اس لئے میں نے اس سے مکان پر ملنے کے لئے وقت مانگا۔جب میں دوسرے دن اس سے ملنے کے لئے گیا تو میں نے پوچھا کہ آپ کے مذہب کی بنیاد کس مسئلہ پر ہے۔اس نے کہا تو حِيْدُ فِي التَّثْلِیثِ اور تَثْلِیثُ فِی التَّوْحِيدِ پر۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ ذرا مجھے یہ سمجھائیے تو سہی۔لمبی گفتگو کے بعد اس نے کہا کہ میں نے اس مسئلہ کی اچھی طرح سٹڈی نہیں کی اور میں اس کو اس لئے مانتا ہوں کہ بائبل میں لکھا ہے۔میں نے کہا کہ اول تو درست نہیں کہ بائبل میں اس کی تعلیم ہے۔دوسرے اگر ہو بھی تو ہم کیسے اس کو تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ بائبل کا ماننا تو اس مسئلہ کے ماننے پر موقوف ہے۔پھر اس نے کہا کہ کفارہ کے مسئلہ کی میں نے خوب تیاری کی ہے اس میں گفتگو کرلیں میں نے کہا بہت اچھا۔جب اس میں گفتگو شروع ہوئی تو آخر میں اس نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرے ماں باپ کا یہ مذہب تھا اور میں عیسائی ہوں۔اس لئے میں اس کو مانتا ہوں ورنہ میرے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔