انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 326

لوم چاند ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز دکھا ئیں گے۔بوجہ اپنی قلت تعداد اب مکان کے اندر کی طرف سے حفاظت کرتے تھے۔اور دروازہ تک پہنچنا باغیوں کے لئے مشکل نہ تھا۔انہوں نے دروازہ کے سامنے لکڑیوں کے انبار جمع کر کے آگ لگادی تاکہ دروازہ جل جارے اور اندر پہنچنے کا راستہ مل جاوے۔صحابہ نے اس بات کو دیکھا تو اندر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔تلواریں پکڑ کر باہر نکلنا چاہا مگر حضرت عثمان نے اس بات سے روکا اور فرمایا کہ گھر کو آگ لگانے کے بعد اور کون سی بات رہ گئی ہے۔اب جو ہونا تھا ہو چکا۔تم لوگ اپنی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالو اور اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ان لوگوں کو صرف میری ذات سے عداوت ہے۔مگر جلد یہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوں گے۔میں ہر ایک شخص کو جس پر میری اطاعت فرض ہے اس کے فرض سے سبکدوش کرتا ہوں اور اپنا حق معاف کرتا ہوں۔(طبری جلد ۲ صفحہ ۲۰۰۲ مطبوعہ بیرت) مگر صحابہ نے اور دیگر لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور تلواریں پکڑ کر باہر نکلے۔ان کے باہر نکلتے وقت حضرت ابو ہریرہ بھی آگئے اور بار جود اس کے کہ وہ فوجی آدمی نہ تھے وہ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔اور فرمایا کہ آج کے دن کی لڑائی سے بہتر اور کون سی لڑائی ہو سکتی ہے اور پھر باغیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا يُقَومِ مَالِی ادْعُوكُمْ إِلَى النَّجوةِ وَتَدْعُونَنِنَ إِلَى النَّارِ (المؤمن : ۴۲) یعنی اے میری قوم! کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم لوگ مجھ کو آگ کی طرف بلاتے ہو۔صحابہ کی مفسدوں سے لڑائی یہ لڑائی ایک خاص لڑائی تھی۔اور مٹھی بھر صحابہ جو اس وقت جمع ہو سکے انہوں نے اس لشکر عظیم کا مقابلہ جان تو ڑ کر کیا۔حضرت امام حسن جو نہایت صلح جو بلکہ صلح کے شہزادے تھے انہوں نے بھی اس دن رجز پڑھ پڑھ کر دشمن پر حملہ کیا۔ان کا اور محمد بن طلحہ کا اس دن کا رجز خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ ان سے ان کے دلی خیالات کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے۔حضرت امام حسن " یہ شعر پڑھ کر باغیوں پر حملہ کرتے تھے۔لا دِيْنُهُمْ دِينِي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ حَتَّى أَسِيرَ إِلَى طَعَارٍ شَمَامِ طبری جلده صفحه ۳۰۱۴ مطبوعہ بیروت) یعنی ان لوگوں کا دین میرا دین نہیں اور نہ ان لوگوں سے میرا کوئی تعلق ہے اور میں ان سے اس وقت تک لڑوں گا کہ شمام پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاؤں۔شمام عرب کا ایک پہاڑ ہے جس کو بلندی پر پہنچنے اور مقصد کے حصول سے مشابہت دیتے ہیں۔اور حضرت امام حسن کا یہ