انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 327

لوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز مطلب ہے کہ جب تک میں اپنے مدعا کو نہ پہنچ جاؤں اس وقت تک میں برابر ان سے لڑتا رہوں گا اور ان سے صلح نہ کروں گا۔کیونکہ ہم میں کوئی معمولی اختلاف نہیں کہ بغیر ان پر فتح پانے کے ہم ان سے تعلق قائم کر لیں یہ تو وہ خیالات ہیں جو اس شہزادہ صلح کے دل میں موجزن تھے۔اب ہم طلحہ کے لڑکے محمد کار جز لیتے ہیں وہ کہتے ہیں: انا ابْنُ مَنْ حَامَى عَلَيْهِ بِأَحَدٍ وَرَد أَحْزَابًا عَلَى رَغْمِ مَعَدٍ یعنی میں اس کا بیٹا ہوں جس نے رسول کریم ﷺ کی حفاظت احد کے دن کی تھی اور ی جس نے باوجود اس کے کہ عربوں نے سارا زور لگایا تھا ان کو شکست دے دی تھی۔یعنی آج بھی احد کی طرح کا ایک واقعہ ہے اور جس طرح میرے والد نے اپنے ہاتھ کو تیروں سے چھلنی کروالیا تھا۔مگر رسول کریم ﷺ کو آنچ نہ آنے دی تھی میں بھی ایسا ہی کروں گا۔حضرت عبداللہ بن زبیر بھی اس لڑائی میں شریک ہوئے اور بری طرح زخمی ہوئے۔مردان بھی سخت زخمی ہوا۔اور موت تک پہنچ کر لوٹا۔مغیرہ بن الاخنس مارے گئے۔جس شخص نے ان کو مارا تھا اس نے دیکھ کر کہ آپ زخمی ہی نہیں ہوئے بلکہ مارے گئے ہیں زور سے کہا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُونَ سردارِ لشکر نے اسے ڈانٹا کہ اس خوشی کے موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہو۔اس نے کہا کہ آج رات میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ ایک شخص کہتا ہے مغیرہ کے قاتل کو دوزخ کی خبر دو۔پس یہ معلوم کر کے کہ میں ہی اس کا قاتل ہوں مجھے اس کا صدمہ ہونا لازمی تھا۔مذکورہ بالا لوگوں کے سوا اور لوگ بھی زخمی ہوئے اور مارے گئے اور حضرت عثمان کی حفاظت کرنے والی جماعت اور بھی کم ہو گئی۔لیکن اگر باغیوں نے باوجود آسمانی انذار کے اپنی ضد نہ چھوڑی اور خدا تعالیٰ کی محبوب جماعت کا مقابلہ جاری رکھا تو دوسری طرف مخلصین نے بھی اپنے ایمان کا اعلیٰ نمونہ دکھانے میں کمی نہ کی۔باوجود اس کے کہ اکثر محافظ مارے گئے زخمی ہو گئے پھر بھی ایک قلیل گروہ برابر دروازہ کی حفاظت کرتا رہا۔چونکہ باغیوں کو بظاہر غلبہ حاصل ہو چکا تھا۔انہوں نے آخری حیلہ کے طور پر پھر ایک شخص کو حضرت عثمان کی طرف بھیجا کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر خود دست بردار ہو جاویں گے تو مسلمانوں کو انہیں سزا دینے کا کوئی حق اور موقع نہ رہے گا۔حضرت عثمان کے پاس جب پیغامبر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو جاہلیت میں بھی