انوارالعلوم (جلد 4) — Page 325
۳۲۵ اسلام میں اختلافات کا آغاز العلوم جلد ۴ جاویں۔پہلو کو۔مقدم آپ کے اس حکم نے صحابہ میں ایک بہت بڑا اختلاف پیدا کر دیا۔ایسا اختلاف کہ جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔صحابہ حکم ماننے کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہ تھے۔مگر آج اس حکم کے ماننے میں ان میں سے بعض کو اطاعت نہیں غداری کی بو نظر آتی تھی۔بعض صحابہ نے تو اطاعت کے سمجھ کر بادل ناخواسته آئندہ کے لئے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا اور غالیا انہوں نے سمجھا کہ ہمارا کام صرف اطاعت ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس حکم پر عمل کرنے کے کیا نتائج ہوں گے مگر بعض صحابہ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ بے شک خلیفہ کی اطاعت فرض ہے مگر جب خلیفہ یہ حکم دے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ تو اس کے یہ معنے ہیں کہ خلافت سے وابستگی چھوڑ دو۔پس یہ اطاعت در حقیقت بغاوت پیدا کرتی ہے۔اور وہ یہ بھی دیکھتے تھے کہ حضرت عثمان کا ان کو گھروں کو واپس کرنا ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے تھا تو پھر کیا وہ ایسے محبت کرنے والے وجود کو خطرہ میں چھوڑ کر اپنے گھروں میں جاسکتے تھے اس مؤخر الذکر گروہ میں سب اکابر صحابہ شامل تھے۔چنانچہ باوجود اس حکم کے حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر کے لڑکوں نے اپنے اپنے والد کے حکم کے ماتحت حضرت عثمان کی ڈیوڑھی پر ہی ڈیرہ جمائے رکھا اور اپنی تلواروں کو میانوں میں نہ داخل کیا۔باغیوں کی گھبراہٹ اور جوش کی کوئی حد باقی حاجیوں کی واپسی پر باغیوں کی گھبراہٹ نہ رہی جب کہ حج سے فارغ ہو کر آنے شخص والے لوگوں میں سے اگتے دُکے مدینہ میں داخل ہونے لگے۔اور ان کو معلوم ہو گیا کہ اب ہماری قسمت کے فیصلہ کا وقت بہت نزدیک ہے۔چنانچہ مغیرہ بن الاخنس سب سے پہلے شخ تھے جو حج کے بعد ثواب جہاد کے لئے مدینہ میں داخل ہوئے اور ان کے ساتھ ہی یہ خبر باغیوں کو ملی کہ اہل بصرہ کا لشکر جو مسلمانوں کی امداد کے لئے آرہا ہے صرار مقام پر جو مدینہ سے صرف ایک دن کے راستہ پر ہے آپہنچا ہے۔ان خبروں سے متاثر ہو کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح ہو اپنے مدعا کو جلد پورا کیا جائے اور چونکہ وہ صحابہ اور ان کے ساتھی جنہوں نے باوجود حضرت عثمان کے منع کرنے کے حضرت عثمان کی حفاظت نہ چھوڑی تھی اور صاف کہہ دیا تھا کہ اگر ہم آپ کو باوجود ہاتھوں میں طاقت مقابلہ ہونے کے چھوڑ دیں تو خدا تعالیٰ کو کیا منہ